تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 155 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 155

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الشورى معرفت کو تازہ کر سکتا ہے اور فرد فرد میں ہونا ضروری نہیں۔لیکن یہ ہم قبول نہیں کر سکتے کہ الہام کی سرے سے صف ہی الٹ دی جائے۔اور ہمارے ہاتھ میں صرف ایسے قصے ہوں جن کو ہم نے بچشم خود دیکھا نہیں۔ظاہر ہے کہ جبکہ ایک امرصد ہا سال سے قصے کی صورت میں ہی چلا جائے اور اس کی تصدیق کے لئے کوئی تازہ نمونہ پیدا نہ ہو تو اکثر طبیعتیں جو فلسفی رنگ اپنے اندر رکھتی ہیں۔اس قصے کو بغیر قوی دلیل کے قبول نہیں کر سکتیں۔خاص کر جبکہ قصے ایسی باتوں پر دلالت کریں کہ جو ہمارے زمانہ میں خلاف قیاس معلوم ہوں۔یہی وجہ ہے کہ کچھ عرصہ کے بعد ہمیشہ فلسفی طبع آدمی ایسی کرامتوں پر ٹھٹھا کرتے آئے ہیں اور شبہ کی حد تک بھی نہیں ٹھہرتے۔اور یہ ان کا حق بھی ہوتا ہے کیونکہ ان کے دل میں گزرتا ہے کہ جب کہ وہی خدا ہے اور وہی صفات اور وہی ضرورتیں ہمیں پیش ہیں تو پھر الہام کا سلسلہ کیوں بند ہے۔حالانکہ تمام روحیں شور ڈال رہی ہیں کہ ہم بھی تازہ معرفت کے محتاج ہیں۔اسی وجہ سے ہندوؤں میں لاکھوں انسان دہر یہ ہو گئے۔کیونکہ بار بار پنڈتوں نے ان کو یہی تعلیم دی کہ کروڑ ہا سال سے الہام اور کلام کا سلسلہ بند ہے۔اب ان کو یہ شبہات دل میں گزرے کہ وید کے زمانہ کی نسبت ہمارا زمانہ پر میشر کے تازہ الہامات کا بہت محتاج تھا۔پھر اگر الہام ایک حقیقت حقہ ہے تو وید کے بعد اس کا سلسلہ کیوں قائم نہیں رہا۔اسی وجہ سے آریہ ورت میں دہریت پھیل گئی۔( ضرورة الامام ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۴۹۲،۴۹۱) بنی نوع انسان کا ایمان تازہ رکھنے کے لئے تازہ الہامات کی ہمیشہ ضرورت ہے اور وہ الہامات اقتداری قوت سے شناخت کئے جاتے ہیں کیونکہ خدا کے سوا کسی شیطان جن بھوت میں اقتداری قوت نہیں ہے اور امام الزمان کے الہام سے باقی الہامات کی صحت ثابت ہوتی ہے۔( ضرورة الامام، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۴۹۳) وہ خدا جو اس دنیا کا بنانے والا اور آئندہ زندگی کی جاودانی امیدیں اور بشارتیں دینے والا ہے اس کا قدیم سے یہ قانونِ قدرت ہے کہ غافل لوگوں کی معرفت زیادہ کرنے کے لئے بعض اپنے بندوں کو اپنی طرف سے الہام بخشتا ہے اور ان سے کلام کرتا ہے اور اپنے آسمانی نشان اُن پر ظاہر کرتا ہے اور اس طرح وہ خدا کو روحانی آنکھوں سے دیکھ کر اور یقین اور محبت سے معمور ہو کر اس لائق ہو جاتے ہیں کہ وہ دوسروں کو بھی اس زندگی کے چشمہ کی طرف کھینچیں جس سے وہ پیتے ہیں تا غافل لوگ خدا سے پیار کر کے ابدی نجات کے مالک ہوں اور ہر ایک وقت میں جب دنیا میں خدا کی محبت ٹھنڈی ہو جاتی ہے اور غفلت کی وجہ سے حقیقی پاک