تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 146 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 146

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۶ سورة الشورى میں ترقی کرنی چاہیئے اور مطالعہ کرتے رہو کہ ان باتوں پر کس حد تک قائم ہوا گر یہ باتیں نہیں ہیں تو پھر خوابات اور الہامات بھی کچھ فائدہ نہیں دیں گے بلکہ صوفیوں نے لکھا ہے کہ اوائل سلوک میں جو ر و یا یا وحی ہو اس پر تو جہ نہیں کرنی چاہیئے وہ اکثر اوقات اس راہ میں روک ہو جاتی ہے انسان کی اپنی خوبی اس میں تو کوئی نہیں کیونکہ یہ تواللہ تعالیٰ کا فعل ہے جو وہ کسی کو کوئی اچھی خواب دکھاوے یا کوئی الہام کرے اس نے کیا کیا ؟ البدر جلد ۳ نمبر ۱۹٬۱۸ مورخه ۸ تا ۶ ۱ رمئی ۱۹۰۴ ء صفحه ۱۰) خدائے تعالیٰ نے انسان کو اس کے کمالات مطلوبہ تک پہنچانے کے لئے صرف جو ہر عقل ہی عطا نہیں کیا بلکہ کشف اور الہام پانے کی قوت بھی اُس کی فطرت میں رکھی ہے۔سرمه چشم آرمیه، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۸۹)۔اللہ تعالیٰ نے وحی اور الہام کا مادہ ہر شخص میں رکھ دیا ہے کیونکہ اگر یہ مادہ نہ رکھا ہوتا تو پھر مخت پوری نہ ہو سکتی۔اس لیے جو نبی آتا ہے اس کی نبوت اور وحی و الہام کے سمجھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کی فطرت میں ایک ودیعت رکھی ہوئی ہے۔اور وہ ودیعت خواب ہے۔اگر کسی کو کوئی خواب سچی کبھی نہ آئی ہو تو وہ کیوں کر مان سکتا ہے کہ الہام اور وحی بھی کوئی چیز ہے۔اور چونکہ خدا تعالیٰ کی یہ صفت ہے کہ لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرة : ۲۸۷) اس لیے یہ مادہ اس نے سب میں رکھ دیا ہے۔میرا یہ مذہب ہے کہ ایک بدکار اور فاسق فاجر کو بھی بعض وقت سچی رؤیا آجاتی ہے اور کبھی کبھی کوئی الہام بھی ہو جاتا ہے۔گو وہ شخص اس کیفیت سے کوئی فائدہ اُٹھا دے یا نہ اُٹھا دے۔جبکہ کافر اور مومن دونوں کو کچی رو یا آ جاتی ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ ان دونوں میں فرق کیا ہے؟ عظیم الشان فرق تو یہ ہے کہ کافر کی رؤیا بہت ہی کم سچی نکلتی ہے اور مومن کی کثرت یہ کہ سے کچی نکلتی ہے۔گویا پہلا فرق کثرت اور قلت کا ہے۔دوسرے مومن کے لیے بشارت کا حصہ زیادہ ہے۔جو کافر کی رؤیا میں نہیں ہوتا۔سوم مومن کی رؤیا مصفا اور روشن ہوتی ہے۔بحالیکہ کا فر کی رؤیا مصفا نہیں ہوتی۔چہارم مومن کی رؤیا اعلیٰ درجہ کی ہوگی۔(احکم جلد ۶ نمبر ۳۱ مورخه ۳۱ اگست ۱۹۰۲ صفحه ۶) وحی کئی قسم کی ہے۔عادت اللہ ہے کہ جب وہ سماع پر موقوف ہو تو اُسے وحی کہتے ہیں۔رؤیت کے متعلق ہو تو اس کو کشف کہتے ہیں ایک قوت شامہ سے ہوتی ہے جیسے اِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ کبھی قوت حاسہ سے بھی ہوتی۔غرض تمام حواس خمسہ سے وحی ہوتی ہے اور مہم کو قبل از وقت بذریعہ وحی ان باتوں کی اطلاع دی جاتی ہے۔مثنوی رومی میں ایک حکایت لکھی ہے کہ ایک دفعہ چند قیدی آنحضرت کے پاس پابجولاں آئے ان