تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 147
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۷ سورة الشورى قیدیوں نے خیال کیا کہ آنحضرت اس حال میں دیکھ کر بہت خوش ہوں گے آپ نے فرمایا کہ نہیں یہ خیال تمہارا غلط ہے جس وقت تم لوگ گھوڑوں پر سوار اور ناز و نعمت میں بآرام چلتے تھے میں تو اس وقت تمہیں پابہ زنجیر دیکھ رہا تھا اب مجھے تمہارے دیکھنے کی کیا خوشی ہے؟ پھر مطلب یہ ہے کہ الہام کے ساتھ عموماً کشوف بھی ہوا کرتے ہیں۔الحکم جلدے نمبر ۱۵ مورخه ۱/۲۴ پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۱۲) عقل روح کی صفائی سے پیدا ہوتی ہے جس جس قدر انسان روح کی صفائی کرتا ہے اُسی اُسی قدر عقل میں تیزی پیدا ہوتی ہے اور فرشتہ سامنے کھڑا ہو کر اس کی مدد کرتا ہے مگر فاسقانہ زندگی والے کے دماغ میں روشنی نہیں آسکتی۔تقویٰ اختیار کرو کہ خدا تمہارے ساتھ ہو۔(الحکم جلدے نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۳) مکاشفات اور الہامات کے ابواب کے کھلنے کے واسطے جلدی نہ کرنی چاہیے اگر تمام عمر بھی کشوف اور الہامات نہ ہوں تو گھبرانا نہ چاہیے اگر یہ معلوم کر لو کہ تم میں ایک عاشق صادق کی سی محبت ہے جس طرح وہ اس کے ہجر میں اس کے فراق میں بھوکا مرتا ہے پیاس سہتا ہے نہ کھانے کا ہوش ہے نہ پانی کی پرواہ۔نہ اپنے تن بدن کی کچھ خبر اسی طرح تم بھی خدا کی محبت میں ایسے محو ہو جاؤ کہ تمہارا وجود ہی درمیان سے گم ہو جاوے پھر اگر ایسے تعلق میں انسان مر بھی جاوے تو بڑا ہی خوش قسمت ہے۔ہمیں تو ذاتی محبت سے کام ہے۔نہ کشوف سے غرض نہ الہام کی پرواہ۔الحکم جلدے نمبر ۱۰ مورخہ ۱۷/ مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۳) ہر یک وحی نبی منزل علیہ کی فطرت کے موافق نازل ہوتی ہے جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مزاج میں جلال اور غضب تھا۔توریت بھی موسوی فطرت کے موافق ایک جلالی شریعت نازل ہوئی۔حضرت مسیح علیہ السلام کے مزاج میں حلم اور نرمی تھی سو انجیل کی تعلیم بھی حلم اور نرمی پر مشتمل ہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج حلم اور بغایت درجہ وضع استقامت پر واقع تھا۔نہ ہر جگہ حلم پسند تھا اور نہ ہر مقام غضب مرغوب خاطر تھا بلکہ حکیمانہ طور پر رعایت محل اور موقعہ کی ملحوظ طبیعت مبارک تھی۔سو قرآن شریف بھی اسی طر ز موزوں و معتدل پر نازل ہوا که جامع شدت و رحمت و ہیبت و شفقت و نرمی و درشتی ہے۔(برائین احمد یہ چہار تصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۱۹۳ حاشیہ نمبر۱۱) جبکہ خدا نے ظاہری چیزوں کے معلوم کرنے کے لئے ظاہری حواس عطا فرمائے ہیں اور علوم معقولہ کے دریافت کرنے کے لئے جو امور باطنیہ ہیں حواس خمسہ باطنی عطا کئے ہیں پس اس صورت میں صاف طور پر سمجھ آ سکتا ہے کہ ایسے امور جو عقل سے بالا تر ہیں اُن کے دریافت کے لئے بھی خدا نے کوئی ذریعہ رکھا ہو گا سو