تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 145
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۵ سورة الشورى طَابَ فَأَوْلتُ أَنَّ الرَّفْعَةَ لَنَا فِي الدُّنْيَا کھجوریں ہمارے پاس لائی گئی ہیں۔میں نے اس کی وَالْعَافِيَّةَ فِي الْآخِرَةِ وَأَنَّ دِينَنَا قَد طاب تعبیر کی کہ ہمارے لئے دُنیا میں رفعت اور آخرت میں فَانظُرْ كَيْفَ رَأَى رَسُولُ اللہ صَلَّی عافیت ہے اور ہمارا دین مقبول ہو رہا ہے۔۔۔۔۔سو دیکھو اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَيْفِيَّاتِ الرُّوْحَانِيّة فى کہ کس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روحانی فِي الصُّورِ الْجِسْمَانِيَّةِ وَلَا يخفى عَلَيْكَ أَنَّ كيفيات جسمانی صورتوں میں دیکھیں اور یہ بات آپ رُؤْيَا الْأَنْبِيَاءِ وَحَى فَتَبَتَ مِنْ هُهُنَا أَنَّ پر مخفی نہیں کہ انبیاء کی خواہیں وحی ہوتی ہیں اور اس سے وَى الأَنْبِيَاءِ قَدْ يَكُونُ مِن نَوعِ الْمَجاز بہ ثابت ہوا کہ انبیاء کی وحی بعض اوقات مجاز اور استعارہ وَالْإِسْتِعَارَةِ، وَقَدْ أَوَّلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى کی قسم سے ہوتی ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذلِك الوَخي۔نے اس قسم کی وحی کی تاویل کی ہے۔(ترجمہ از مرتب) (حمامة البشرى، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۱۹۱،۱۹۰ حاشیہ) الہام خدا تعالیٰ کا فعل ہے۔بندہ کی الہام میں فضیلت نہیں بلکہ اعمال صالحہ میں فضیلت ہے اور اس میں کہ خدا تعالی اس سے راضی ہو جائے سو نیک کاموں میں کوشش چاہیے تا کہ موجب نجات ہو۔( بدر جلد ۲ نمبر ۲۳ مورخہ ۷ جون ۱۹۰۶ صفحه ۵) اگر چاہتے ہو کہ اس ( خدا تعالی ) کا کلام سنو تو اس کا قرب حاصل کرو۔مگر یہ یاد رکھو کہ اصل مقصود تمہارا یہ نہ ہو۔ورنہ میرا اپنا ہی مذہب ہے کہ یہ بھی ایک قسم کا شرک ہوگا کیونکہ خدا تعالیٰ کی رضا جوئی اور اس کی محبت کی غرض اصل تو یہ ہوئی کہ الہام ہوں یا کشوف ہوں اور پھر بار یک طور پر اس کے ساتھ نفسانی غرض یہ ملی ہوئی ہوتی ہے کہ اس سے ہماری شہرت ہو۔لوگوں میں ہم ممتاز ہوں۔ہماری طرف رجوع ہو۔یہ باتیں صافی تعلقات میں ایک روک ہو جاتی ہیں اور اکثر اوقات شیطان ایسے وقت پر قابو پالیتا ہے۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۴۲ مورخه ۱۰/ دسمبر ۱۹۰۶ء صفحه ۳، ۴) خوب یا درکھو کہ ان خوابوں اور الہامات پر ہی نہ رہو بلکہ اعمال صالحہ میں لگے رہو بہت سے الہامات اور خواب سیر و پھل کی طرح ہوتے ہیں جو کچھ دنوں کے بعد گر جاتے ہیں اور پھر کچھ باقی نہیں رہتا ہے۔اصل مقصد اور غرض اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچا اور بے ریا تعلق ، اخلاص اور وفاداری ہے جونرے خوابوں سے پوری نہیں ہو سکتی مگر اللہ سے بھی بے خوف نہیں ہونا چاہیے جہاں تک ہو سکے صدق و اخلاص و ترک ریا و ترک منہیات