تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 144 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 144

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۴ سورة الشورى وحی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتی اور پاک دلوں تک وہ علوم پہنچاتی ہے جو بشری طاقتوں سے بلند تر ہیں پھر جبکہ یہ حال ہے کہ عقل بجائے خود کوئی چیز نہیں بلکہ ثابت شدہ صداقتوں کے ذریعہ سے قدر ومنزلت پیدا کرتی ہے تو ہم کہتے ہیں کہ وحی سماوی ایک ثابت شدہ صداقت ہے جو اپنے اندر اعجازی قوت رکھتی ہے اور علوم غیبیہ پر مشتمل ہوتی ہے اور ہم اس دعوی کے ثابت کرنے کے ذمہ وار ہیں۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۳۹،۲۳۸ حاشیه ) خدا کے الہام میں یہ ضروری ہے کہ جس طرح ایک دوست دوسرے دوست سے مل کر باہم ہمکلام ہوتا ہے اسی طرح رب اور اس کے بندہ میں ہمکلامی واقع ہو اور جب یہ کسی امر میں سوال کرے تو اس کے جواب میں ایک کلام لذیذ فصیح خدائے تعالی کی طرف سے کئے جس میں اپنے نفس اور فکر اور غور کا کچھ بھی دخل نہ ہو اور وہ مکالمہ اور مخاطبہ اس کے لئے موہبت ہو جائے تو وہ خدا کا کلام ہے اور ایسا بندہ خدا کی جناب میں عزیز ہے۔(اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۴۰،۴۳۹) کبھی بھی کی اور وحی امر میں کبھی نبی کی وحی خبر واحد کی طرح ہوتی ہے اور مع ذالک مجمل ہوتی ہے اور کبھی وحی ایک امر میں کثرت سے اور واضح ہوتی ہے۔پس اگر مجمل وحی میں اجتہاد کے رنگ میں کوئی غلطی بھی ہو جائے تو بینات محکمات کو اس سے کچھ صدمہ نہیں پہنچتا۔پس میں اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ کبھی میری وحی بھی خبر واحد کی طرح ہو اور مجمل ہو اور اس کے سمجھنے میں اجتہادی رنگ کی غلطی ہو۔اس بات میں تمام انبیاء شریک ہیں۔(لیکچر سیالکوٹ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۴۵) إنَّ اللهَ تَعَالَى قَد يُوحَى إِلَى أَنْبِيَائِهِ | الله تعالیٰ اپنے انبیاء اور مرسلوں کو کبھی کبھی مجاز، وَرُسُلُه في حُللِ الْمَجازات والاستعارات استعارہ اور تمثیل کے رنگ میں وحی کرتا ہے اور رسول کریم وَالتَّمْلِيلاتِ، وَنَطَائِرُه كَثِيرَةٌ في وَحْي صلى اللہ علیہ وسلم کی وحی میں اس کی بہت سی نظائر موجود خَيْرِ الرُّسُلِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا ہیں۔منجملہ ان کے ایک مثال حضرت انس کی حدیث مَا جَاءَ فِي حَدِيثِ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ میں آئی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلعم نے الله صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ ذَاتَ فرمایا کہ میں نے ایک رات ایک ایسا ہی خواب دیکھا ليْلَةٍ قِمَا يَرَى النَّائِمُ كَانَا فِي دَارِ عُقْبَةِ بْنِ جیسا ایک سونے والا دیکھتا ہے کہ گویا ہم عقبہ بن رافع کی فَأُتِينَا پرطلب من رطب ابنِ حویلی میں ہیں اور ابن طاب کی کھجوروں میں سے کچھ رافع