تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 143
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۳ سورة الشورى یوری صلح نہ ہو اور اس کی اطاعت کے لیے اس نے گردن نہ رکھ دی ہو تب تک وہ کسی کو حاصل نہیں ہو سکتی۔خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيكَةُ اَلا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَ أَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ (لحم السجدة : ۳۱) یہ اس امر کی طرف اشارہ ہے۔نزول وحی کا صرف اُن کے ساتھ وابستہ ہے جو کہ خدا کی راہ میں مستقیم ہیں اور وہ صرف مسلمان ہی ہیں۔وحی ہی وہ شئے ہے کہ جس سے انا الموجود کی آواز کان میں آ کر ہر ایک شک اور شبہ سے ایمان کو نجات دیتی ہے اور بغیر جس کے مرتبہ یقین کامل کا انسان کو حاصل نہیں ہو سکتا۔لیکن کشف میں یہ آواز کبھی نہیں سنائی دیتی اور یہی وجہ ہے کہ صاحب کشف ایک دہریہ بھی ہو سکتا ہے۔لیکن صاحب وحی بھی دہر یہ نہیں ہو گا۔البدر جلد ۴ نمبر ۸ مورخه ۱۳ / مارچ ۱۹۰۵ء صفحه ۲) جس جگہ صفوت و عصمت و تبتل و محبت کامل و تام و خون و در دو شوق و خوف ہے اس جگہ انوار وحی کے کامل تجلیات بغیر آمیزش کسی نوع کی ظلمت کے وارد ہوتے رہتے ہیں اور آفتاب کی طرح چمکتے ہوئے نظر آتے رہتے ہیں اور جس جگہ یہ مرتبہ کمال تام کا نہیں اس جگہ وحی بھی اس عالی مرتبہ سے متنزّل ہوتی ہے۔غرض وحی الہی ایک ایسا آئینہ ہے جس میں خدائے تعالیٰ کی صفات کمالیہ کا چہرہ حسب صفائی باطن نبی منزل علیہ کے نظر آتا ہے اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پاک باطنی و انشراح صدری و عصمت و حیا وصدق وصفا و توکل و وفا اور عشق الہی کے تمام لوازم میں سب انبیاء سے بڑھ کر اور سب سے افضل واعلیٰ و اکمل وارفع واحلی واصفا تھے اس لئے خدائے جل شانہ نے ان کو عطر کمالات خاصہ سے سب سے زیادہ معطر کیا اور وہ سینہ اور دل جو تمام اولین و آخرین کے سینہ و دل سے فراخ تر و پاک تر و معصوم تر و روشن تر و عاشق تر تھا وہ اسی لائق ٹھہرا کہ اس پر ایسی وحی نازل ہو کہ جو تمام اولین و آخرین کی وحیوں سے اقومی و اکمل و ارفع واتم ہو کر صفات الہیہ کے دکھلانے کے لئے ایک نہایت صاف اور کشادہ اور وسیع آئینہ ہو۔سرمه چشم آری، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ اے حاشیہ ) عقل انسانی اگر ایک ثابت شدہ صداقت کو اپنے فہم اور ادراک سے بالا تر نہ سمجھے تو وہ صداقت صرف اس وجہ سے رو کرنے کے لائق نہیں ٹھہرے گی کہ عقل اس کی حقیقت تک نہیں پہنچتی۔دُنیا میں بہتیرے ایسے خواص نباتات و جمادات و حیوانات میں پائے جاتے ہیں کہ وہ تجارب صحیحہ کے ذریعہ سے ثابت ہیں مگر عقل انسان کے مافوق ہیں یعنی عقل اُن کی حقیقت تک پہنچ نہیں سکتی اور ان کی حقیقت بتلا نہیں سکتی۔پس ایسا ہی وہ