تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 68 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 68

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۸ سورة المؤمن کامل سعادت میں دیکھیں گے کہ جو ان کے جسم اور جان اور ظاہر اور باطن پر محیط ہو جائے گی اور کوئی حصہ وجود ان کے کا ایسا نہیں ہو گا کہ جو اس سعادت عظمی کے پانے سے بے نصیب رہا ہو۔براتین احمد یه چهار تخصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۴۵۵،۴۵۴ حاشیہ نمبر ۱۱) خدا تعالیٰ اپنی قہری تجلی سے ہر یک چیز کو معدوم کر کے اپنی وحدانیت اور یگانگت دکھلائے گا۔( آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۵۴ حاشیه ) وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ إِلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ اِيْمَانَةَ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولُ رَبِّيَ اللهُ وَقَدْ جَاءَكُم بِالْبَيِّنَتِ مِن رَّبِّكُمْ وَ إِنْ يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ وَإِنْ يَكُ يك صَادِقًا يُصِبُكُمْ بَعْضُ الَّذِى يَعِدُكُمْ إِنَّ اللهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كذاب b خدا تعالیٰ ایک مفتری کی پیشگوئی کو جو ایک جھوٹے دعوی کے لئے بطور شاہد صدق بیان کی گئی ہرگز سچی نہیں کر سکتا۔وجہ یہ کہ اس میں خلق اللہ کو دھو کہ لگتا ہے جیسا کہ اللہ جلشانہ خود مدعی صادق کے لئے یہ علامت قرار دے کر فرماتا ہے وَ اِنْ يَكُ صَادِقًا يُصِبُكُمْ بَعْضُ الَّذِى يَعِدُكُمْ۔۔۔۔۔۔خدا تعالى صاف فرماتا ہے کہ إِنَّ اللهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفُ كَذَ اب سوچ کر دیکھو کہ اس کے یہی معنی ہیں جو شخص اپنے دعوی میں کا ذب ہو اس کی پیشگوئی ہرگز پوری نہیں ہوتی۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۳۲۲) اگر یہ صیح ہے کہ خدا صادق کا حامی ہوتا ہے اور اپنے وعدوں کو پورا کرتا ہے نہ افتر اؤں کو تو اس اصول کو مانا ایک منصف کے لئے ضروری ہوگا کہ جو پیشگوئی خدا کے نام پر کی جائے اور وہ پوری ہو جائے تو وہ خدا کی طرف سے اور ہے۔اور اگر اس اصول کو نہ مانا جائے تو خدا کی ساری کتابیں بے دلیل رہ جائیں گی اور ان کی سچائی پر یقین کرنے کی راہیں بند ہو جائیں گی۔اسی کی طرف خدا تعالیٰ اشارہ فرماتا ہے اور کہتا ہے وَإِنْ يَكُ صَادِقًا يُصِبُكُمُ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُم یعنی صادق کی یہ نشانی ہے کہ اس کی بعض پیشگوئیاں پوری ہو جاتی ہیں۔بعض کی شرط اس لئے لگادی کہ وعید کی پیشگوئیوں میں رجوع اور توبہ کی حالت میں عذاب کا تخلف جائز ہے گو کوئی بھی شرط نہ ہو۔پس ممکن ہے کہ بعض عذاب کی پیشگوئیاں ملتوی رکھی جائیں اور اپنی میعاد کے اندر پوری نہ ہوں۔جیسا کہ یونس