تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 63 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 63

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۳ سورة المؤمنون تک ختم ہوتی ہے تو عبد اللہ اس آیت سے تعجب میں پڑ گیا۔اور عبد اللہ نے کہا فَتَبَرَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَلِقِينَ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہی لکھ لے کیونکہ خدا نے بھی یہی فقرہ جو تیرے منہ سے نکلا ہے یعنی فَتَبَرَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخَلِقِينَ نازل کر دیا ہے۔پس عبد اللہ شک میں پڑ گیا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جو میری زبان کا کلمہ ہے وہی خدا کا کلمہ ہو گیا۔اور اُس نے کہا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دعوے میں صادق ہے تو مجھے بھی وہی وحی ہوتی ہے جو اُ سے ہوتی ہے اور اگر کا ذب ہے تو اس کے دین میں کوئی بھلائی نہیں ہے۔پھر وہ مکہ کی طرف بھاگ گیا۔پس ایک روایت یہ ہے کہ وہ کفر پر مر گیا اور ایک یہ بھی روایت ہے کہ وہ فتح مکہ کے وقت مسلمان ہو گیا۔اب دیکھو عبد اللہ ابن ابی سرح کے کلام سے خدا تعالیٰ کے کلام کا تو ارد ہوا یعنی عبد اللہ کے منہ سے بھی یہ فقر و نکالا تھا فَتَبَرَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخَلِقین اور خدا تعالیٰ کی وحی میں بھی یہی آیا۔اور اگر کہو کہ پھر خدا تعالیٰ کے کلام اور انسان کے کلام میں مابہ الامتیاز کیا ہوا؟ تو اول تو ہم اس کا یہی جواب دیتے ہیں کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے آپ قرآن شریف میں فرمایا ہے مابہ الامتیاز قائم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ وہ کلام جو غیر کا کلام کہلاتا ہے قرآنی سورتوں میں سے کسی سورت کے برابر ہو۔کیونکہ اعجاز کے لئے اسی قدر معتبر سمجھا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَإِن كُنتُم فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ (البقرة : ۲۳) یہ نہیں فرمایا که فَأْتُوا بِآيَةٍ مِنْ مِثْلِهِ يا فَأْتُوا بِكَلِمَةٍ مِنْ مِثْلِهِ۔اور در حقیقت یہ سچ ہے کہ خدا کے کلمات علیحدہ علیحدہ تو وہی کلمات ہیں جو کفار کی زبان پر بھی جاری تھے۔پھر رنگینی عبارت اور نظم کلام اور دیگر لوازم کے لحاظ سے وہی کلمات بحیثیت مجموعی ایک معجزہ کے رنگ میں ہو گئے اور جو معجزہ خدا تعالی کے افعال میں پایا جاتا ہے اس کی بھی یہی شان ہے یعنی وہ بھی اپنی حیثیت مجموعی سے معجزہ بنتا ہے جیسا کہ کلام اپنی حیثیت مجموعی سے معجزہ بنتا ہے۔ہاں خدا تعالیٰ کے منہ سے جو چھوٹے چھوٹے فقرے نکلتے ہیں وہ اپنے مطالب عالیہ کے لحاظ سے جوان کے اندر ہوتے ہیں انسانی فقرات سے امتیاز کلی رکھتے ہیں۔یہ امر دیگر ہے کہ انسان ان کے پوشیدہ حقائق معارف تک نہ پہنچےمگر ضرور ان کے اندر انوار مخفیہ ہوتے ہیں جو ان کلمات کی رُوح ہوتے ہیں۔جیسا کہ یہی کلمہ فَتَبرَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخَلِقِینَ اپنی گذشتہ آیات کے ساتھ تعلق کی وجہ سے ایک امتیازی رنگ اپنے اندر رکھتا ہے۔یعنی اس قسم کی روحانی فلاسفی اس کے اندر بھری ہوئی ہے کہ وہ بجائے خود ایک معجزہ ہے جس کی نظیر انسانی کلام میں نہیں ملتی۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۸۳ تا ۱۸۵)