تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 64 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 64

۶۴ سورة المؤمنون تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام قرآن شریف رُوحوں کو ازلی ابدی نہیں ٹھہراتا ہے اُن کو مخلوق بھی مانتا ہے اور فانی بھی۔جیسا کہ وہ روحوں کے مخلوق ہونے کے بارے میں صاف طور پر فرماتا ہے کہ تم انشانَهُ خَلْقًا أَخَرَ یعنی جب قالب تیار ہو جاتا ہے تو اس کی تیاری کے بعد اُسی قالب میں سے ہم ایک نئی پیدائش کر دیتے ہیں یعنی روح۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۶۴) ثابت شدہ واقعات یقینی اور قطعی طور پر شہادت دے رہے ہیں کہ خود نطفہ مرد اور عورت کا بغیر اس کے کہ اُس پر شبنم کی طرح آسمان کی فضا سے روح گرے رُوح پیدا ہونے کی اپنے اندر استعداد رکھتا ہے۔پھر جب مرد اور عورت کا نطفہ باہم مل جاتا ہے تو وہ استعداد بہت قوی ہو جاتی ہے اور آہستہ آہستہ وہ استعداد بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ جب بچہ کا پورا قالب طیار ہو جاتا ہے تو خدا تعالیٰ کی قدرت اور امر سے اُسی قالب میں سے رُوح پیدا ہو جاتی ہے یہ وہ واقعات ہیں جو مشہود اور محسوس ہیں۔اسی کو ہم کہتے ہیں کہ نیستی سے ہستی ہوئی کیونکہ ہم روح کو جسم اور جسمانی نہیں کہہ سکتے اور یہ بھی ہم دیکھتے ہیں کہ رُوح اُسی مادہ میں سے پیدا ہوتی ہے جو بعد اجتماع دونوں نطفوں کے رحم مادر میں آہستہ آہستہ قالب کی صورت پیدا کرتا ہے اور اس مادہ کے لئے ضروری نہیں کہ ساگ پات کی کسی قسم پر روح شبنم کی طرح گرے اور اس سے رُوح کا نطفہ پیدا ہو بلکہ وہ مادہ گوشت سے بھی پیدا ہوسکتا ہے خواہ وہ گوشت بکرہ کا ہو یا مچھلی کا یا ایسی مٹی ہو جوزمین کی نہایت عمیق نہ کے نیچے ہوتی ہے جس سے مینڈ کیں وغیرہ کیڑے مکوڑے پیدا ہوتے ہیں۔ہاں بلاشبہ یہ خدا کی قدرت کا ایک راز ہے کہ وہ جسم میں سے ایک ایسی چیز پیدا کرتا ہے کہ وہ نہ جسم ہے اور نہ جسمانی۔پس واقعات موجودہ مشہودہ محسوسہ ظاہر کر رہے ہیں کہ آسمان سے رُوح نہیں گرتی بلکہ یہ ایک نئی روح ہوتی ہے جو ایک مرکب نطفہ میں سے بقدرت قادر پیدا ہو جاتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے ثُمَّ انْشَانَهُ خَلْقًا أَخَرَ فَتَبَرَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْعَلِقِينَ یعنی جب رحم میں قالب انسانی تیار ہو جاتا ہے تو پھر ہم ایک نئی پیدائش سے اُس کو مکمل کرتے ہیں یعنی ہم اس مادہ کے اندر سے جس سے قالب تیار ہوا ہے رُوح پیدا کر دیتے ہیں۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۲۳، ۱۲۴) ( روح کے ذکر پر فرمایا ) جس شے نے پیدا ہونا ہوتا ہے تو روح کی استعداد اس شے میں ساتھ ساتھ چلی آتی ہے۔جیسے جیسے وہ طیار ہوتی جاتی ہے اور جب وہ معین لائق ہوتا ہے تو خدا اس پر فیضان کرتا ہے۔اسی کی طرف اشارہ ہے ثم