تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 62 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 62

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۲ سورة المؤمنون لبید بن ربیعہ العامری کے دل میں ڈالا تھا جو اس کے اس قصیدہ کا اول مصرع ہے جو سبعہ معلقہ کا چوتھا قصیدہ ہے اور لبید نے زمانہ اسلام کا پایا تھا اور مشرف با سلام ہو گیا تھا اور صحابہ رضی اللہ عنہم میں داخل تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے اس کے کلام کو یہ عزت دی کہ جو آخری زمانہ کی نسبت ایک عظیم الشان پیشگوئی تھی کہ ایسی ایسی تباہیاں ہوں گی جن سے ایک ملک تباہ ہوگا وہ اسی کے مصرع کے الفاظ میں بطور وحی فرمائی گئی جو اس کے منہ سے نکلی تھی۔پس یہ تعجب سخت نادانی ہے کہ ایک کلام جو مسلمان کے منہ سے نکلا ہے وہ کیوں وحی الہی میں داخل ہوا کیونکہ جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں وہ کلام جو عبداللہ بن ابی سرح کے منہ سے نکلا تھا یعنی فَتَبَرَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَلِقِينَ وہی قرآن شریف میں نازل ہوا جس کی وجہ سے عبداللہ بن ابی سرح مرتد ہو کر مکہ کی طرف بھاگ گیا۔پس جبکہ خدا تعالیٰ کے کلام کا ایک مرتد کے کلام سے تو ارد ہوا تو اس سے کیوں تعجب کرنا چاہیے کہ لبید جیسے صحابی بزرگوار کے کلام سے اس کلام کا توارد ہو جائے۔خدا تعالیٰ جیسے ہر ایک چیز کا وارث ہے ہر ایک پاک کلام کا بھی وارث ہے ہر ایک پاک کلام اسی کی توفیق سے منہ سے نکلتا ہے۔پس اگر ایسا کلام بطور وحی نازل ہو جائے تو اس بارے میں وہی شخص شک کرے گا جس کو اسلام میں شک ہو۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۶۲) خود ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بعض ایسے فقرے وحی الہی کے نازل ہو چکے ہیں جو پہلے وہ کسی آدمی کے منہ سے نکلے تھے۔جیسا کہ یہ فقرہ وحی فرقانی یعنی فَتَبرَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخَلِقِينَ۔یہ فقرہ پہلے عبد اللہ بن ابی سرح کی زبان سے نکلا تھا۔اور وہی فقرہ وحی قرآنی میں نازل ہوا۔دیکھو تفسیر کبیر الجزء السادس صفحہ ۲۷۶ مطبوعہ مصر۔اصل عبارت یہ ہے روَى الْكَلْبِى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرَجِ كَانَ يَكْتُبُ هَذِهِ الْآيَاتِ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى خَلْقًا أَخَرَ عَجِبَ مِنْ ذَالِكَ فَقَالَ فَتَبَارَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخَالِقِينَ۔فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اكْتُبْ فَهُكَذَا نَزَلَتْ، فَشَكَ عَبْدُ اللهِ وَقَالَ إِنْ كَانَ مُحَمد صَادِقًا قِيمَا يَقُولُ فَإِنَّهُ يُوحَى إِلَى كَمَا يُوحَى إِلَيْهِ وَإِنْ كَانَ كَاذِبًا فَلَا خَيْرَ فِي دِينِهِ فَهَرَبَ إِلَى مَكَّةَ فَقِيلَ إِنَّهُ مَاتَ عَلَى الْكُفْرِ وَقِيلَ إِنَّهُ أَسْلَمَ يَوْمَ الْفَتْحِ۔ترجمہ یہ ہے کہ کلبی نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ عبد اللہ ابن ابی سرح قرآن شریف کی آیات لکھا کرتا تھا۔یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رو برو جیسی آیت نازل ہوتی تھی اُس سے لکھواتے تھے۔پس جب وہ آیت لکھوائی گئی جو خَلْقًا أَخَرَ