تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 58 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 58

۵۸ سورة المؤمنون تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہر یک قسم کی بجی اور بے راہی سے باز آ کر اور بالکل رو بخدا ہو کر راہ راست کو اختیار کرنا یہ وہی سخت گھائی ہے جس کو دوسرے لفظوں میں فنا سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ امور مالوفہ اور معتادہ کو یک لخت چھوڑ دینا اور نفسانی خواہشوں کو جو ایک عمر سے عادت ہو چکی ہے ایک دفعہ ترک کرنا اور ہر ایک ننگ اور ناموس اور عجب اور ریا سے منہ پھیر کر اور تمام ماسوا اللہ کو کالعدم سمجھ کر سیدھا خدا کی طرف رخ کر لینا حقیقت میں ایک ایسا کام ہے جو موت کے برابر ہے اور یہ موت روحانی پیدائش کا مدار ہے اور جیسے دانہ جب تک خاک میں نہیں ملتا اور اپنی صورت کو نہیں چھوڑ تا تب تک نیا دانہ وجود میں آنا غیر ممکن ہے۔اسی طرح روحانی پیدائش کا جسم اس فنا سے تیار ہوتا ہے۔جوں جوں بندہ کا نفس شکست پکڑتا جاتا ہے اور اس کا فعل اور ارادت اور رو بخلق ہونا فنا ہوتا جاتا ہے توں توں پیدائش روحانی کے اعضاء بنتے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب فناء اتم حاصل ہو جاتی ہے تو وجود ثانی کی خلعت عطا کی جاتی ہے اور ثُمَّ انْسَانَهُ خَلْقًا اخر کا وقت آ جاتا ہے اور چونکہ یہ فناء اتم بغیر نصرت و توفیق و توجه خاص قادر مطلق کے ممکن نہیں اس لئے یہ دعا تعلیم کی یعنی اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ جس کے یہ معنی ہیں کہ اے خدا ہم کو ر اور است پر قائم کر اور ہر یک طور کی کجی اور بے راہی سے نجات بخش۔( براہینِ احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۰۵ تا ۶۰۹ حاشیہ نمبر ۱۱)۔اگر یہ وسواس دل میں گزرے کہ پھر اللہ جل شانہ نے مسیح ابن مریم کی نسبت اس قصہ میں جہاں پرندہ بنانے کا ذکر ہے تعلق کا لفظ کیوں استعمال کیا ہے جس کے بظاہر یہ معنی ہیں کہ تو پیدا کرتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ حضرت عیسی کو خالق قرار دینا بطور استعارہ ہے جیسا کہ اس دوسری آیت میں فرمایا ہے فتبوك اللهُ اَحْسَنُ الْخَلِقِينَ بلاشبہ حقیقی اور سچا خالق خدا تعالیٰ ہے اور جو لوگ مٹی یا لکڑی کے کھلونے بناتے ہیں وہ بھی خالق ہیں مگر جھوٹے خالق جن کے فعل کی اصلیت کچھ بھی نہیں۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۶۰ حاشیه ) ابتدائی تقومی جس کے حصول سے متقی کا لفظ انسان پر صادق آسکتا ہے وہ ایک فطرتی حصہ ہے کہ جو سعیدوں کی خلقت میں رکھا گیا ہے اور ربوبیت اولی اس کی مربی اور وجود بخش ہے جس سے متقی کا پہلا تولد ہے مگر وہ اندرونی نور جو روح القدس سے تعبیر کیا گیا ہے وہ عبودیت خالصہ تامہ اور ر بوبیت کاملہ متجمعہ کے پورے جوڑ واتصال سے بطرز ثُمَّ انْشَانَهُ خَلْقًا اخر کے پیدا ہوتا ہے اور یہ ربوبیت ثانیہ ہے جس سے متقی تولد ثانی پاتا ہے اور ملکوتی مقام پر پہنچتا ہے اور اس کے بعد ربوبیت ثالثہ کا درجہ ہے جو خلق جدید سے موسوم