تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 57 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 57

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۷ سورة المؤمنون آئے جن کو معانی مقصودہ سے کچھ حصہ نہیں مگر ان کے حصول کے لئے ایک ذریعہ قریبہ ہیں سوم ان فقرات نا تمام کا مرتبہ جو ابھی کلام مقصودہ کے پورے درجہ تک نہیں پہنچے تھے کیونکہ ہنوز تنزیل کا سلسلہ نا تمام تھا اور خدا تعالیٰ کے کلام نے ابھی اپنا کامل چہرہ نہیں دکھلایا تھا مگر ان فقرات کو معانی مقصودہ سے ایک وافر حصہ تھا اس لئے وہ کلام تام الہی کے لئے بطور بعض اعضا کے ٹھہرے جن کا نام بلحاظ قلت و کثرت آیتیں اور سورتیں رکھا گیا چہارم اس کا کلام جامع تام مفصل ممیز کا مرتبہ جوسب نازل ہو چکا اور جمیع مضامین مقصودہ اور علوم حکمیہ وقصص و اخبار و احکام و قوانین و ضوابط و حدود و مواعید و انذارات و تبشیرات اور درشتی اور نرمی اور شدت اور رحم اور حقائق و نکات پر بالاستیفا مشتمل ہے۔پنجم بلاغت و فصاحت کا مرتبہ جو زینت اور آرائش کے لئے اس کلام پر ازل سے چڑھائی گئی ششم برکت اور تاثیر اور کشش کی روح کا مرتبہ جو اس پاک کلام میں موجود ہے جس نے تمام کلام پر اپنی روشنی ڈالی اور اس کو زندہ اور منور کلام ثابت کیا۔اسی طرح ہر یک عاقل اور فصیح منشی کے کلام میں یہی چھے مراتب جمع ہو سکتے ہیں گو وہ کلام اعجازی حد تک نہیں پہنچتا کیونکہ جن حروف میں کوئی کلام لکھا جائے گا خواہ وہ عربی ہوں یا انگریزی یا ہندی پہلے ان کا وجود ضروری ہے سو یہ تو پہلا مرتبہ ہوا جو مضامین مقصودہ کے اظہار کے لئے ایک ذریعہ بعیدہ ہے مگر ان سے کچھ حصہ نہیں رکھتا پھر بعد اس کے دوسرا مرتبہ کلمات کا ہے جو حروف قرار دادہ سے پیدا ہوں گے جن کو معانی و مضامین مقصودہ سے ابھی کچھ حصہ نہیں مگر ان کے حصول کے لئے ایک ذریعہ قریبہ ہیں۔پھر اس کے بعد تیسرا مرتبہ فقرات کا ہے جو ابھی معانی مقصودہ کے پورے جامع تو نہیں مگر ان میں سے کچھ حصہ رکھتے ہیں اور اس مضمون کے لئے جو غشی کے ذہن میں ہے بطور بعض اعضا کے ہیں۔پھر چوتھا مرتبہ کلام جامع تام کا ہے جو نشی کے دل میں سے نکل کر بہ تمام و کمال کا غذ پر اندراج پا گیا ہے اور تمام معافی اور مضامین مقصودہ کو اپنے اندر جمع رکھتا ہے پھر پانچواں مرتبہ یہ ہے کہ ان سادہ فقرات اور عبارتوں پر بلاغت اور فصاحت کا رنگ چڑھایا جائے اور خوش بیانی کے نمک سے بیع کیا جائے پھر چھٹا مرتبہ جو بلا توقف اس مرتبہ کے تابع ہے یہ ہے کہ کلام میں اثر اندازی کی ایک جان پیدا ہو جائے جو دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیوے اور طبیعتوں میں گھر کر لیوے۔اب غور کر کے دیکھ لو کہ یہ مراتب ستہ بکلی ان مراتب ستہ کی مانند اور ان کی مثیل ہیں جن کا قرآن کریم میں نطفہ علقہ مضغہ اور کچھ مضغہ اور کچھ عظام یعنی انسان کی شکل کا خاکہ اور انسان کی پوری شکل اور جاندار انسان ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۷۲ تا ۲۱۱ حاشیه در حاشیه ) نام رکھا ہے۔