تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 59
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۹ ہے جس سے متقی لا ہوتی مقام پر پہنچتا ہے اور تولد ثالث پاتا ہے۔فتَدَبَّرُ۔سورة المؤمنون (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۵۹، ۵۶۰ ، حاشیه ) خدا تعالیٰ کا پاک کلام ہمیں سمجھاتا ہے کہ روح اس قالب میں سے ہی ظہور پذیر ہو جاتی ہے جو نطفہ سے رحم میں تیار ہوتا ہے جیسا کہ وہ قرآن شریف میں فرماتا ہے ثُمَّ انْشَانَهُ خَلْقًا أَخَرَ فَتَبَرَكَ اللهُ أَحْسَنُ الخلقین یعنی پھر ہم اس جسم کو جو رحم میں تیار ہوا تھا ایک اور پیدائش کے رنگ میں لاتے ہیں اور ایک اور خلقت اس کی ظاہر کرتے ہیں جو روح کے نام سے موسوم ہے اور خدا بہت برکتوں والا ہے اور ایسا خالق ہے کہ کوئی اس کے برابر نہیں۔اور یہ جو فرمایا کہ ہم اسی جسم میں سے ایک اور پیدائش ظاہر کرتے ہیں یہ ایک گہرا راز ہے جو روح کی حقیقت دکھا رہا ہے اور ان نہایت مستحکم تعلقات کی طرف اشارہ کر رہا ہے جو روح اور جسم کے درمیان واقعہ ہیں اور یہ اشارہ ہمیں اس بات کی بھی تعلیم دیتا ہے کہ انسان کے جسمانی اعمال اور اقوال اور تمام طبعی افعال جب خدا تعالیٰ کے لئے اور اس کی راہ میں ظاہر ہونے شروع ہوں تو ان سے بھی یہی الہی فلاسفی متعلق ہے یعنی ان مخلصانہ اعمال میں بھی ابتداء ہی سے ایک روح مخفی ہوتی ہے جیسا کہ نطفہ میں مخفی تھی اور جیسے جیسے ان اعمال کا قالب تیار ہوتا جائے وہ روح چمکتی جاتی ہے اور جب وہ قالب پورا تیار ہو چکتا ہے تو ایک دفعہ وہ روح اپنی کامل تجلی کے ساتھ چمک اٹھتی ہے اور اپنی روحی حیثیت سے اپنے وجود کو دکھا دیتی ہے اور زندگی کی صریح حرکت شروع ہو جاتی ہے جبھی کہ اعمال کا پورا قالب تیار ہو جاتا ہے۔معا بجلی کی طرح ایک چیز اندر سے اپنی کھلی کھلی چمک دکھلا نا شروع کر دیتی ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحہ ۳۲۲،۳۲۱) فَانظُرُ أَنَّ الْإِنْسَانَ إِذَا قُلبَ فِي پس تو دیکھ کہ جب انسان پیدائش کے مراتب میں مَرَاتِبِ الْخِلْقَةِ۔وَاخْرِجَ إِلى حَيْزِ الْفِعْلِ پھیرا گیا اور چیز فعل سے قوت کی طرف لایا گیا اور طبیعی جلوہ مِنَ الْقُوَّةِ وَأَعْطِيَ صُوَرًا فِي الْمَجَالِي گاہوں میں قسم قسم کی صورتیں دیا گیا اور بعض قسم پیدائش الطَّبْعِيَّةِ وَقَفَا بَعْضُهَا بَعْضًا بِالتمايز بعض کے پیچھے آئیں اور ان میں با ہم تفرقہ اور تمیز ہوا پس وَالتَّفْرِقَةِ۔فَجَيعَتْ هُهُنَا مَدَارِجُ تَفْتَعِنی اس جگہ کئی مدارج پیدا ہوئے جو اپنے لئے ناموں کو چاہتے لأَنْفُسِهَا الْأَسْمَاء فَأَعْطَقهَا الْعَرَبِيَّةُ تھے پس عربی نے ان کو ان کے نام عطا کئے اور اپنے عطیہ وَالْمَلَتِ الْعَطاء كَالأَسْخِيَاءِ الْمُتَمَوِلِین کو کامل کیا جیسے کئی اور مالدار لوگوں کا کام ہوتا ہے اور اس