تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 11 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 11

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 11 سورة المؤمنون اب ہم یہ تو بیان کر چکے کہ روحانی وجود کا پہلا مرتبہ جو حالت خشوع ہے جسمانی وجود کے پہلے مرتبہ سے جو نطفہ ہے مشابہت تام رکھتا ہے۔اس کے بعد یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ روحانی وجود کا دوسرا مرتبہ بھی جسمانی وجود کے دوسرے مرتبہ سے مشابہ اور مماثل ہے۔اس کی تفصیل یہ ہے جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ روحانی وجود کا دوسرا مرتبہ وہ ہے جو اس آیت کریمہ میں بیان فرمایا گیا ہے یعنی وَالَّذِيْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ یعنی مومن وہ ہیں جو لغو باتوں اور لغو کاموں اور لغوحرکتوں اور لغو مجلسوں اور لغو صحبتوں اور لغو تعلقات سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔اور اس کے مقابل پر جسمانی وجود کا دوسرا مرتبہ وہ ہے جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے کلام عزیز میں علقہ کے نام سے موسوم فرمایا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً یعنی پھر ہم نے نطفہ کو علقہ بنایا۔یعنی ہم نے اُس کو لغو طور پر ضائع ہونے سے بچا کر رحم کی تاثیر اور تعلق سے علقہ بنا دیا۔اس سے پہلے وہ معرض خطر میں تھا اور کچھ معلوم نہ تھا کہ وہ انسانی وجود بنے یا ضائع جائے۔لیکن وہ رحم کے تعلق کے بعد ضائع ہونے سے محفوظ ہو گیا اور اس میں ایک تغیر پیدا ہو گیا جو پہلے نہ تھا۔یعنی وہ ایک جمے ہوئے خون کی صورت میں ہو گیا۔اور قوام بھی غلیظ ہو گیا اور رحم سے اس کا ایک علاقہ ہو گیا اس لئے اس کا نام علقہ رکھا گیا اور ایسی عورت حاملہ کہلانے کی مستحق ہوگئی۔اور بوجہ اس علاقہ کے رحم اس کا سر پرست بن گیا اور اس کے زیر سایہ نطفہ کا نشو و نما ہونے لگا۔مگر اس حالت میں نطفہ نے کچھ زیادہ پاکیزگی حاصل نہیں کی۔صرف ایک خون جما ہوا بن گیا اور رحم کے تعلق کی وجہ سے ضائع ہونے سے بچ گیا اور جس طرح اور صورتوں میں ایک نطفہ لغو طور پر پھیلتا اور بیہودہ طور پر اندر سے بہ نکلتا اور کپڑوں کو پلید کرتا تھا اب اس تعلق کی وجہ سے بریکار جانے سے محفوظ رہ گیا۔لیکن ہنوز وہ ایک جما ہوا خون تھا جس نے ابھی نجاست خفیفہ کی آلودگی سے پاکی حاصل نہیں کی تھی۔اگر رحم سے یہ تعلق اس کا پیدا نہ ہوتا توممکن تھا کہ وہ اندام نہانی میں داخل ہو کر بھی رحم میں قرار نہ پاسکتا اور باہر کی طرف بہ جا تا۔مگر رحم کی قوت مد ترہ نے اپنے خاص جذب سے اُس کو تھام لیا اور پھر ایک جھے ہوئے خون کی شکل پر بنا دیا۔تب جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں اس تعلق کی وجہ سے علقہ کہلایا اور اس سے پہلے رحم نے اُس پر کوئی اپنا خاص اثر ظاہر نہیں کیا تھا اور اسی اثر نے اس کو ضائع ہونے سے روکا اور اسی اثر سے نطفہ کی طرح اُس میں رقت بھی باقی نہ رہی یعنی اس کا قوام رکیک اور پتلا نہ رہا بلکہ کسی قدر گاڑھا ہو گیا۔