تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 10
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام سورة المؤمنون اپنے تئیں ظاہر کرتے ہیں مختلف قسم کی کافیوں اور شعروں کے سننے اور سرود کی تاثیر سے رقص اور وجد اور گریہ وزاری شروع کر دیتے ہیں اور اپنے رنگ میں لذت اُٹھاتے ہیں۔اور خیال کرتے ہیں کہ ہم خدا کومل گئے ہیں۔مگر یہ لذت اُس لذت سے مشابہ ہے جو ایک زانی کو حرامکار عورت سے ہوتی ہے۔اور پھر ایک اور مشابہت خشوع اور نطفہ میں ہے اور وہ یہ کہ جب ایک شخص کا نطفہ اس کی بیوی یا کسی اور عورت کے اندر داخل ہوتا ہے تو اس نطفہ کا اندام نہانی کے اندر داخل ہونا اور انزال کی صورت پکڑ کر رواں ہو جانا بعینہ رونے کی صورت پر ہوتا ہے جیسا کہ خشوع کی حالت کا نتیجہ بھی رونا ہی ہوتا ہے اور جیسے بے اختیار نطفہ اچھل کر صورت انزال اختیار کرتا ہے۔یہی صورت کمال خشوع کے وقت میں رونے کی ہوتی ہے کہ رونا آنکھوں سے اُچھلتا ہے اور جیسی انزال کی لذت کبھی حلال طور پر ہوتی ہے جب کہ اپنی بیوی سے انسان صحبت کرتا ہے اور کبھی حرام طور پر جب کہ انسان کسی حرام کا ر عورت سے صحبت کرتا ہے۔یہی صورت خشوع اور سوز و گداز اور گریہ وزاری کی ہے یعنی کبھی خشوع اور سوز و گداز محض خدائے واحد لاشریک کے لئے ہوتا ہے جس کے ساتھ کسی بدعت اور شرک کا رنگ نہیں ہوتا۔پس وہ لذت سوز وگداز کی ایک لذت حلال ہوتی ہے مگر کبھی خشوع اور سوز و گداز اور اس کی لذت بدعات کی آمیزش سے یا مخلوق کی پرستش اور بتوں اور دیویوں کی پوجا میں بھی حاصل ہوتی ہے مگر وہ لذت حرامکاری کے جماع سے مشابہ ہوتی ہے۔غرض مجرد خشوع اور سوز وگداز اور گریہ وزاری اور اس کی لذتیں تعلق باللہ کو مستلزم نہیں بلکہ جیسا کہ بہت سے ایسے نطفے ہیں جو ضائع جاتے ہیں اور رحم اُن کو قبول نہیں کرتا۔ایسا ہی بہت سے خشوع اور تضرع اور زاری ہیں جو محض آنکھوں کو کھونا ہے اور رحیم خدا ان کو قبول نہیں کرتا۔غرض حالت خشوع کو جو روحانی وجود کا پہلا مرتبہ ہے نطفہ ہونے کی حالت سے جو جسمانی وجود کا پہلا مرتبہ ہے ایک کھلی کھلی مشابہت ہے جس کو ہم تفصیل سے لکھ چکے ہیں اور یہ مشابہت کوئی معمولی امر نہیں ہے بلکہ صانع قدیم جل شانہ کے خاص ارادہ سے ان دونوں میں اکمل اور اتم مشابہت ہے یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کی کتاب میں بھی لکھا گیا ہے کہ دوسرے جہان میں بھی یہ دونوں لذتیں ہوں گی۔مگر مشابہت میں اس قدر ترقی کر جائیں گی کہ ایک ہی ہو جائیں گی یعنی اُس جہان میں جو ایک شخص اپنی بیوی سے محبت اور اختلاط کرے گا وہ اس بات میں فرق نہیں کر سکے گا کہ وہ اپنی بیوی سے محبت اور اختلاط کرتا ہے یا محبت الہیہ کے دریائے بے پایاں میں غرق ہے اور واصلانِ حضرت عزت پر اسی جہان میں یہ کیفیت طاری ہو جاتی ہے جو اہل دنیا اور مجبوبوں کے لئے ایک امر فوق الفہم ہے۔