تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 12
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲ سورة المؤمنون اور اور اس علقہ کے مقابل پر جو جسمانی وجود کا دوسرا مرتبہ ہے روحانی وجود کا دوسرا مرتبہ وہ ہے جس کا ابھی ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں جس کی طرف قرآن شریف کی یہ آیت اشارہ کرتی ہے وَ الَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ یعنی رہائی یافتہ مومن وہ لوگ ہیں جو لغو کاموں اور لغو باتوں اور لغوحرکتوں اور لغو مجلسوں اور لغو صحبتوں سے اور لغو تعلقات سے اور لغو جوشوں سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں اور ایمان ان کا اس درجہ تک پہنچ جاتا ہے کہ اس قدر کنارہ کشی اُن پر سہل ہو جاتی ہے کیونکہ بوجہ ترقی ایمان کے کسی قدر تعلق اُن کا خدائے رحیم سے ہو جاتا ہے جیسا کہ علقہ ہونے کی حالت میں جب نطفہ کا تعلق کسی قدر رحم سے ہو جاتا ہے تو وہ لغوطور پر گر جانے یا بہ جانے یا اور طور پر ضائع ہو جانے سے امن میں آجاتا ہے الا ماشاء اللہ۔سو روحانی وجود کے اس مرتبہ دوم میں خدائے رحیم سے تعلق بعینہ اس تعلق سے مشابہ ہوتا ہے جو جسمانی وجود کے دوسرے مرتبہ پر علقہ کو رحم سے تعلق ہو جاتا ہے اور جیسا کہ قبل ظہور دوسرے مرتبہ وجو دروحانی کے لغو تعلقات اور لغوشغلوں سے رہائی یا نا غیر ممکن ہوتا ہے اور صرف وجود روحانی کا پہلا مرتبہ یعنی خشوع اور عجز و نیاز کی پانا حالت اکثر بر بادبھی چلی جاتی ہے اور انجام بد ہوتا ہے۔ایسا ہی نطفہ بھی جو جسمانی وجود کا پہلا مرتبہ ہے علقہ بنے کی حالت سے پہلے بسا اوقات صدہا مرتبہ لغو طور پر ضائع ہو جاتا ہے پھر جب ارادہ الہی اس بات کے متعلق ہوتا ہے کہ لغوطور پر ضائع ہونے سے اس کو بچائے تو اُس کے امر اور اذن سے وہی نطفہ رحم میں علقہ بن جاتا ہے تب وہ وجود جسمانی کا دوسرا مرتبہ کہلاتا ہے غرض دوسرا مرتبہ روحانی وجود کا جو تمام لغو باتوں اور تمام کاموں سے پر ہیز کرنا اور لغو باتوں اور لغو تعلقات اور لغو جوشوں سے کنارہ کش ہونا ہے یہ مرتبہ بھی اسی وقت میسر آتا ہے کہ جب خدائے رحیم سے انسان کا تعلق پیدا ہو جائے۔کیونکہ یہ تعلق میں ہی طاقت اور قوت ہے کہ دوسرے تعلق کو توڑتا ہے اور ضائع ہونے سے بچاتا ہے اور گو انسان کو اپنی نماز میں حالت خشوع میسر آجائے جو روحانی وجود کا پہلا مرتبہ ہے پھر بھی وہ خشوع لغو باتوں اور لغو کاموں اور لغو جوشوں سے روک نہیں سکتا۔جب تک کہ خدا سے وہ تعلق نہ ہو جو روحانی وجود کے دوسرے مرتبہ پر ہوتا ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ گو ایک انسان اپنی بیوی سے ہر روز کئی دفعہ صحبت کرے تاہم وہ نطفہ ضائع ہونے سے رُک نہیں سکتا ہر جب تک کہ رحم سے اس کا تعلق پیدا نہ ہو جائے۔پس خدا تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ والَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ اس کے یہی معنے ہیں کہ مومن وہی ہیں جو لغو تعلقات سے اپنے تئیں الگ کرتے ہیں اور لغو تعلقات سے اپنے تئیں الگ کرنا خدا تعالیٰ سے تعلق کا موجب