تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 318 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 318

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۸ سورة لقمان نہ بہت اونچا بولا کرونہ بہت نیچا درمیان کو نگاہ رکھو یعنی باستثناء وقت ضرورت کے چلنے میں بھی نہ بہت تیز چلو اور نہ بہت آہستہ۔درمیان کو نگاہ رکھو۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۳۷) إن الله عِندَه عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَا ذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَي أَرْضِ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ ایک آریہ صاحب نے۔۔۔۔بصورت اعتراض پیش کیا تھا کہ لڑکا لڑکی کے پیدا ہونے کی شناخت دائیوں کو بھی ہوتی ہے یعنی دائیاں بھی معلوم کر سکتی ہیں کہ لڑکا پیدا ہوگا یا لڑ کی۔واضح رہے کہ ایسا اعتراض کرنا یا معترض صاحب کی سراسر حیلہ سازی وحق پوشی ہے کیونکہ اول تو کوئی وائی ایسا دعوی نہیں کر سکتی بلکہ ایک حاذق طبیب بھی ایسا دعویٰ ہر گز نہیں کر سکتا کہ اس امر میں میری رائے قطعی اور یقینی ہے جس میں تخلف کا امکان نہیں صرف ایک اٹکل ہوتی ہے کہ جو بار ہا خطا جاتی ہے۔( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحه ۹۹) عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ پر حضرت اقدس نے فرمایا۔) یہ بات واقعی ہے اور قرآن کریم سے بھی ثابت ہے کہ ساعت سے اس جگہ مراد یہودیوں کی تباہی کا زمانہ ہے۔وہ وہی زمانہ تھا اور جس ساعت کے یہ لوگ منتظر ہیں اس کا تو ابھی تک کہیں پتہ بھی نہیں ہے۔ایک پہلو سے اول مسیح کے وقت یہودیوں نے بد بختی لے لی اور دوسرے وقت میں نصاری نے بد بختی کا حصہ لے لیا۔مسلمانوں نے بھی پوری مشابہت یہود سے کر لی۔اگر ان کی سلطنت یا اختیار ہوتا تو ہمارے ساتھ بھی مسیج والا البدر جلد ا نمبر ۲ مورخہ ۷ /نومبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۱۱) معاملہ کرتے۔