تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 317 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 317

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۷ سورة لقمان نے فرمایا کہ جن کا نہ بند نیچے ڈھلکتا ہے وہ دوزخ میں جاویں گے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ یہ سن کر رو پڑے کیونکہ ان کا تہ بند بھی ویسا تھا۔آپ نے فرمایا کہ تو ان میں سے نہیں ہے۔غرض نیت کو بہت بڑا دخل ہے اور حفظ مراتب ضروری شے ہے۔الحکم جلد ۸ نمبر ۱۷ مورخه ۲۴ رمئی ۱۹۰۴ صفحه ۳) وَاقْصِدُ فِي مَشْيِكَ وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ إِنَّ أَنْكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الحمير ہمارا مطلب و مدعا یہ ہے کہ ایسے امور کی موشگافی اور نہ بینی کی امید سے اپنی عقلوں اور فکروں کو آوارہ مت کرو جو تمہاری بساط سے باہر ہیں۔کیا یہ سچ نہیں کہ بہتیرے ایسے لوگ ہیں کہ ناجائز فکروں میں پڑ کر اپنی اس معین اور مقرر وسعت سے جو قدرت نے ان کو دے رکھی ہے باہر چلے جاتے ہیں اور اپنی محدود عقل سے کل کائنات کے عمیق در عمیق رازوں کو حل کرنا چاہتے ہیں۔سو یہ افراط ہے جیسے بلکلی تحقیق و تفتیش سے منہ پھیر لینا تفریط ہے۔اللہ جل شانہ فرماتا ہے وَاقْصِد فِي مَشْيِكَ یعنی اپنی چال میں توسط اختیار کر۔نہ ایسا فکر کو منجمد کر لینا چاہیے کہ جو ہزار ہا نکات و لطائف الہیات قابل دریافت ہیں ان کی تحصیل سے محروم رہ جائیں اور نہ اس قدر تیزی کرنی چاہیے کہ ان فکروں میں پڑ جائیں کہ خدائے تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ہے اور یا اس نے اس قدر ارواح اور اجسام کس طرح بنالئے ہیں اور یا اُس نے کیوں کر اکیلا ہونے کی حالت میں اس قدر وسیع عالم بنا ڈالا ہے۔سرمه چشم آری، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۶۶ ۱۶۷) خود نبی صلعم نے بوحی الہی استنباط احکام قرآن کر کے قرآن ہی سے یہ مسائل زائدہ لئے ہیں جس حالت میں قرآن کریم صاف ظاہر کرتا ہے کہ کل خبائث حرام کئے گئے تو کیا آپ کے نزدیک درندے اور گدھے طیبات میں سے ہیں؟ جن کے حرام کرنے کے لئے کسی حدیث کی واقعی طور پر ضرورت تھی۔گدھے کی مذمت خود اللہ جل شانہ فرماتا ہے إِنَّ انْكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیر۔پھر جو اس کی نظر میں کسی وجہ سے منکر اور مکروہ اور خبائث میں داخل ہے وہ کس طرح حلال ہو جاتا ؟ اور تمام درندے بد بو سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔چڑیا گھر میں جا کر دیکھو کہ شیر اور بھیڑیا اور چیتا وغیرہ اس قدر بد بور کھتے ہیں کہ پاس کھڑا ہونا مشکل ہوتا ہے۔پھر اگر یہ خبائث میں داخل نہیں ہیں تو اور کیا ہیں؟ الحق مباحثہ لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۰۶)