تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 299
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۹ سورة الروم ہیں یعنی اس کا یقین فطری ہے جیسا کہ فرمایا ہے فطْرَتَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا - الحق مباحثہ لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۰) اسلام انسان کی فطرت میں رکھا گیا ہے اور خدا نے انسان کو اسلام پر پیدا کیا اور اسلام کے لئے پیدا کیا ہے۔یعنی یہ چاہا ہے کہ انسان اپنے تمام قومی کے ساتھ اس کی پرستش اور اطاعت اور محبت میں لگ جائے۔اسی وجہ سے اس قادر کریم نے انسان کو تمام قومی اسلام کے مناسب حال عطا کئے ہیں۔۔۔۔۔انسان کو جو کچھ اندرونی اور بیرونی اعضاء دیئے گئے ہیں یا جو کچھ قوتیں عنایت ہوئی ہیں، اصل مقصود ان سے خدا کی معرفت اور خدا کی پرستش اور خدا کی محبت ہے۔اسی وجہ سے انسان دنیا میں ہزاروں شغلوں کو اختیار کر کے پھر بھی بجز خدا کے اپنی سچی خوشحالی کسی میں نہیں پاتا۔بڑا دولتمند ہو کر، بڑا عہدہ پا کر، بڑا تاجر بن کر، بڑی بادشاہی تک پہنچ کر، بڑا فلاسفر کہلا کر آخران دنیوی گرفتاریوں سے بڑی حسرتوں کے ساتھ جاتا ہے اور ہمیشہ دل اس کا دنیا کے استغراق سے اس کو ملزم کرتا رہتا ہے اور اس کے مکروں اور فریبوں اور ناجائز کاموں میں کبھی اس کا کانشنس اس سے اتفاق نہیں کرتا۔ایک دانا انسان اس مسئلہ کو اس طرح بھی سمجھ سکتا ہے کہ جس چیز کے قومی ایک اعلیٰ سے اعلیٰ کام کر سکتے ہیں اور پھر آگے جا کر ٹھہر جاتے ہیں۔وہی اعلیٰ کام اس کی پیدائش کی علت غائی سبھی جاتی ہے۔مثلاً بیل کا کام اعلیٰ سے اعلیٰ قلبه رانی یا آبپاشی یا بار برداری ہے۔اس سے زیادہ اس کی قوتوں میں کچھ ثابت نہیں ہوا۔سو بیل کی زندگی کا مدعا یہی تین چیزیں ہیں۔اس سے زیادہ کوئی قوت اس میں پائی نہیں جاتی۔مگر جب ہم انسان کی قوتوں کو ٹولتے ہیں کہ ان میں اعلیٰ سے اعلیٰ کون سی قوت ہے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ خدائے اعلیٰ برتر کی اس میں تلاش پائی جاتی ہے۔یہاں تک کہ وہ چاہتا ہے کہ خدا کی محبت میں ایسا گداز اور محو ہو کہ اس کا اپنا کچھ بھی نہ رہے سب خدا کا ہو جائے۔وہ کھانے اور سونے وغیرہ طبعی امور میں دوسرے حیوانات کو اپنا شریک غالب رکھتا ہے۔صنعت کاری میں بعض حیوانات اس سے بہت بڑھے ہوئے ہیں۔بلکہ شہد کی مکھیاں بھی ہر ایک پھول کا عطر نکال کر ایسا شہر نفیس پیدا کرتی ہیں کہ اب تک اس صنعت میں انسان کو کامیابی نہیں ہوئی۔پس ظاہر ہے کہ انسان کا اعلیٰ کمال خدا تعالیٰ کا وصال ہے۔لہذا اس کی زندگی کا اصل مدعا یہی ہے کہ خدا کی طرف اس کے دل کی کھڑ کی کھلے۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۱۶،۴۱۵) وَأَنَا الرَّجُلُ الْمُحَمَّدِقُ فَقَدْ أُمِرَ لَمْ ایک ایک مسلمان کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ جیسے وہ شریعت قانونیہ