تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 300 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 300

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الروم أَن يَتَّبِعَ الشَّرِيعَةَ الْفِطْرِيَّةَ كَمَا يَتَّبِعُ کی پیروی کرتا ہے ویسے ہی شریعتِ فطریہ کی بھی پیروی الشَّرِيعَةَ الْقَانُونِيَّةَ، وَلَا يَقْطَعُ أَمْرًا إِلَّا کرے اور کسی امر کا قطعی فیصلہ شریعت فطریہ کی شہادت بَعْدَ شَهَادَةِ الشَّرِيعَةِ الْفِطرِيَّةِ، وَلِذَالِك کے بغیر نہ کرے۔اور چونکہ اس ملت کے ساتھ فطرت سمى الْإِسْلَامُ دِيْنَ الْفِطْرَةِ لِلزُومِ لازم ہے اس لئے اسلام کو دینِ فطرت کہا جاتا ہے اور اسی الْفِطْرَةِ لِهذِهِ الْمِلَّةِ وَإِلَيْهِ أَشَارَ کی طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس ارشاد نَبِيُّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَفْتِ میں اشارہ فرمایا ہے کہ تو اپنے دل سے فتویٰ طلب کر خواہ قَلْبَكَ وَلَوْ أَفَتَاكَ الْمُفْتُونَ"۔فانظر تجھے مفتی بھی فتوی دیں پس غور کرو کہ کس طرح آنحضرت كَيْفَ رَغَبَ فِي الشَّرِيعَةِ الْفِطرِيَّةِ وَلَمْ صلی اللہ علیہ وسلم نے شریعت فطریہ کہ طرف رغبت دلائی يَقْنَعُ عَلى مَا قَالَ الْعَالِمُونَ۔فَالْمُسْلِمُ ہے اور اس بات کو کافی سمجھنے کا ارشاد نہیں فرمایا جو عالم لوگ الْعَامِلُ مَنْ يَتَّبِعُ الشَّرِيعَتَيْنِ، وَيَنْظُرُ بیان کرتے ہیں۔پس کامل مسلم وہ ہے جو دو شریعتوں کی بِالْعَيْنَيْنِ، فَيُهْدَى إِلَى الخيراطِ وَلَا پیروی کرے اور دو آنکھوں کے ساتھ دیکھے۔سوایسے شخص يَخْدَعُهُ الْخَادِعُونَ۔وَلِذَالِكَ ذَكَر الله في کی ہی سیدھے راستہ کی طرف راہنمائی کی جائے گی اور محامِدِ الإِسْلامِ أَنَّهُ شَرِيعَةٌ فِطرِيَّةٌ اس کو دھوکہ دینے والے دھو کہ نہیں دے سکیں گے اس لئے حَيْثُ قَالَ فِطْرَتَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ اللہ تعالی نے اسلام کی خوبیوں میں سے اس خوبی کا ذکر کیا النَّاسَ عَلَيْهَا " وَهُذَا مِنْ أَعْظم ہے کہ وہ ایک فطری قانون ہے جیسا کہ فرما یا فطرت الله فَضَائِلِ هَذِهِ الْمِلَّةِ وَمَنَاقِبِ تِلْكَ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا اور یہ اس ملت کے فضائل الشَّرِيعَةِ۔فَإِنَّهُ يُوجِدُ فِي هَذَا التَّعْلِيمِ میں سے سب سے بڑی فضیلت ہے اور اس شریعت کی مَدَارُ الْأَمْرِ عَلَى الْقُوَّةِ الْقُدْسِيَّةِ خوبیوں میں سے سب سے بڑی خوبی ہے کیونکہ اس تعلیم الْقَاضِيَّةِ الْمَوْجُوْدَةِ في النَّشْأَةِ میں حکم کا دارو مدار اس قوت قدسیہ پر ہے جو فیصلہ کرنے والی الْإِنْسَانِيَّةِ الْمُوصِلَةِ إِلى كَمَالٍ تَافٍ في اور انسانی سرشت میں موجود ہے اور فنا کے مراتب میں مَرَاتِبِ الْمَحْوِيَّةِ، فَلَا يَبْقَى مَعَهَا مَنْفَذ کمال تک پہنچانے والی ہے اور اس کی موجودگی میں لِلتَّصَرُّفَاتِ النَّفْسَانِيَّةِ، لِمَا فِيهِ عَمَل تصرفات نفسانیہ کے لئے کوئی راہ باقی نہیں رہتی کیونکہ اس عَلَى الشَّهَادَةِ الْفِطْرِيَّةِ۔وَأَمَّا التَّوْرَاةُ میں فطرت کی شہادت پر عمل کیا جاتا ہے لیکن تو رات اور 66