تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 298
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۸ سورة الروم کو قبول کرتا ہے۔اس سے زیادہ نہیں۔اس کے سمجھنے کے لئے آفتاب نہایت روشن مثال ہے۔کیونکہ ہر چند آفتاب اپنی کرنیں چاروں طرف چھوڑ رہا ہے۔لیکن اس کی روشنی قبول کرنے میں ہر یک مکان برابر نہیں۔جس مکان کے دروازے بند ہیں اس میں کچھ روشنی نہیں پڑ سکتی اور جس میں بمقابل آفتاب ایک چھوٹا سا روز نہ ہے اس میں روشنی تو پڑتی ہے مگر تھوڑی جو بکلی ظلمت کو نہیں اٹھا سکتی۔لیکن وہ مکان جس کے دروازے بمقابل آفتاب سب کے سب کھلے ہیں اور دیوار میں بھی کسی کثیف شے سے نہیں بلکہ نہایت مصفی اور روشن شیشہ سے ہیں۔اس میں صرف یہی خوبی نہیں ہوگی کہ کامل طور پر روشنی قبول کرے گا۔بلکہ اپنی روشنی چاروں طرف پھیلا دے گا اور دوسروں تک پہنچا دے گا۔یہی مثال موخر الذکر نفوس صافیہ انبیاء کے مطابق حال ہے۔یعنی جن نفوس مقدسہ کو خدا اپنی رسالت کے لئے چن لیتا ہے وہ بھی رفع حجب اور مکمل صفوت میں اس شیش محل کی طرح ہوتے ہیں جس میں نہ کوئی کثافت ہے اور نہ کوئی حجاب باقی ہے۔پس ظاہر ہے کہ جن افراد بشریہ میں وہ کمال تام موجود نہیں۔ایسے لوگ کسی حالت میں مرتبہ رسالت الہی نہیں پاسکتے۔بلکہ یہ مرتبہ قسام ازل سے انہیں کو ملا ہوا ہے جن کے نفوس مقدسہ حجب ظلمانی سے بکلی پاک ہیں۔جن کو اغشیہ جسمانی سے بغایت درجہ آزادگی ہے۔جن کا تقدس و تنزہ اس درجہ پر ہے جس کے آگے خیال کرنے کی گنجائش ہی نہیں۔و ہی نفوس تامہ کاملہ وسیلہ ہدایت جمیع مخلوقات ہیں اور جیسے حیات کا فیضان تمام اعضاء کو قلب کے ذریعہ سے ہوتا ہے۔ایسا ہی حکیم مطلق نے ہدایت کا فیضان انہیں کے ذریعہ سے مقرر کیا ہے۔کیونکہ وہ کامل مناسبت جو مفیض اور مستفیض میں چاہیئے وہ صرف انہیں کو عنایت کی گئی ہے۔اور یہ ہرگز ممکن نہیں کہ خداوند تعالی جو نہایت تجرد و تنزہ میں ہے ایسے لوگوں پر افاضہ انوار وحی مقدس اپنے کا کرے جن کی فطرت کے دائرہ کا اکثر حصہ ظلمانی اور دود آمیز ہے اور نیز نہایت تنگ اور منقبض اور جن کی طبائع خسیسہ کدورات سفلیہ میں منغمس اور آلودہ ہیں۔اگر ہم اپنے تئیں آپ ہی دھوکا نہ دیں تو بے شک ہمیں اقرار کرنا پڑے گا کہ مبدء قدیم سے اتصال تام پانے کے لئے اور اس قدوس اعظم کا ہمکلام بننے کے لئے ایک ایسی خاص قابلیت اور نورانیت شرط ہے کہ جو اس مرتبہ عظیم کی قدر اور شان کے لائق ہے۔یہ بات ہرگز نہیں کہ ہر یک شخص جو عین نقصان اور فروما ئیگی اور آلودگی کی حالت میں ہے اور صد با حجب ظلمانیہ میں مجوب ہے وہ با وصف اپنی پست فطرتی اور دون ہمتی کے اس مرتبہ کو پاسکتا ہے۔( براتان احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۱۸۴ تا ۱۹۰ حاشیه ) وہ قرآن کریم ہے کتاب مکنون میں ہے جس کے ایک معنے یہ ہیں کہ صحیفہ ، فطرت میں اس کی نقلیں منقوش