تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 264 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 264

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۴ سورة العنكبوت کیفیت پیدا ہوتی ہے اس کا نام صلوۃ ہے۔پس یہی وہ صلوات ہے جو سیئات کو بھسم کر جاتی ہے اور اپنی جگہ ایک نور اور چمک چھوڑ دیتی ہے جو سالک کو راستہ کے خطرات اور مشکلات کے وقت ایک منور شمع کا کام دیتی ہے اور ہر قسم کے خس و خاشاک اور ٹھوکر کے پتھروں اور خاروخس سے جو اس کی راہ میں ہوتے ہیں آگاہ کر کے بچاتی ہے اور یہی وہ حالت ہے جبکہ إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ کا اطلاق اس پر ہوتا ہے۔۔۔۔کیونکہ اس کے شمع دانِ دل میں ایک روشن چراغ رکھا ہوا ہوتا ہے اور یہ درجہ کامل تذلل کامل نیستی اور فروتنی اور پوری اطاعت سے حاصل ہوتا ہے پھر گناہ کا خیال اسے آ کیوں کر سکتا ہے اور انکار اس میں پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔فحشاء کی طرف اس کی نظر اُٹھ ہی نہیں سکتی۔غرض اسے ایسی لذت، ایسا سرود حاصل ہوتا ہے میں نہیں سمجھ سکتا کہ اسے کیوں کر بیان کروں۔الحکم جلد ۳ نمبر ۱۳ مورخه ۱/۱۲اپریل ۱۸۹۹ء صفحه ۶،۵) نماز ہی ایک ایسی نیکی ہے جس کے بجالانے سے شیطانی کمزوری دور ہوتی ہے اور اسی کا نام دعا ہے۔شیطان چاہتا ہے کہ انسان اس میں کمزور رہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جس قدر اصلاح اپنی کرے گا وہ اسی ذریعہ سے کرے گا۔پس اس کے واسطے پاک صاف ہونا شرط ہے۔۔۔جب تک گندگی انسان میں ہوتی ہے اس وقت تک شیطان اس سے محبت کرتا ہے۔البدر جلد ۲ نمبر ۴ مورخه ۱۳ فروری ۱۹۰۳ ء صفحه ۲۷) اپنے دلوں میں خدا تعالیٰ کی محبت اور عظمت کا سلسلہ جاری رکھیں اور اس کے لئے نماز سے بڑھ کر اور کوئی شے نہیں ہے کیونکہ روزہ تو ایک سال کے بعد آتے ہیں اور زکوۃ صاحب مال کو دینی پڑتی ہے مگر نماز ہے کہ ہر ایک حیثیت کے آدمی کو ) پانچوں وقت ادا کرنی پڑتی ہے اسے ہرگز ضائع نہ کریں۔اسے بار بار پڑھو اور اس خیال سے پڑھو کہ میں ایسی طاقت والے کے سامنے کھڑا ہوں کہ اگر اس کا ارادہ ہو تو ابھی قبول کر لیوے اسی حالت میں بلکہ اسی ساعت میں بلکہ اسی سیکنڈ میں۔کیونکہ دوسرے دنیوی حاکم تو خزانوں کے محتاج ہیں اور ان کو فکر ہوتی ہے کہ خزانہ خالی نہ ہو جاوے اور ناداری کا ان کو فکر لگا رہتا ہے مگر خدا تعالیٰ کا خزانہ ہر وقت بھرا بھرایا ہے۔جب اس کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو صرف یقین کی حاجت ہوتی ہے کہ اسے اس امر پر یقین ہو کہ میں ایک سمیع، علیم اور خبیر اور قادر ہستی کے سامنے کھڑا ہوا ہوں اگر اسے لہر آجاوے تو ابھی دے دیوے۔بڑی تضرع سے دعا کرے نا امید اور بدظن ہرگز نہ ہو وے اور اگر اس طرح کرے تو (اس راحت کو ) جلدی دیکھ لے گا اور خدا تعالیٰ کے اور اور فضل بھی شامل حال ہوں گے اور خود خدا بھی ملے گا۔تو یہ طریق ہے جس پر کار بند ہونا چاہیے مگر ظالم فاسق کی دعا قبول نہیں ہوا کرتی کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے لا پرواہ