تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 263 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 263

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۳ سورة العنكبوت جیب کتریں یا کسی اور ناجائز طریق سے بیگانہ مال پر قبضہ کریں اور پھر فرمایا کہ تم اچھی چیزوں کے عوض میں خبیث اور ر دی چیزیں نہ دیا کرو۔۔۔ان تمام آیات میں خدا تعالیٰ نے تمام طریقے بد دیانتی کے بیان فرما دیئے اور ایسا کلام کلی کے طور پر فرمایا جس میں کسی بددیانتی کا ذکر باہر نہ رہ جائے۔صرف یہ نہیں کہا کہ تو چوری نہ کرتا ایک نادان یہ نہ سمجھ لے کہ چوری میرے لئے حرام ہے مگر دوسرے ناجائز طریقے سب حلال ہیں۔اس کلمہ جامع کے ساتھ تمام ناجائز طریقوں کو حرام ٹھہرانا یہی حکمت بیانی ہے۔( اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۴۸،۳۴۷) ج وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَلِمُونَ۔جس طرح آفتاب کا قدر آنکھ ہی سے پیدا ہوتا ہے اور روز روشن کے فوائد اہل بصارت ہی پر ظاہر ہوتے ہیں اسی طرح خدا کی کلام کا کامل طور پر انہیں کو قدر ہوتا ہے کہ جو اہل عقل ہیں جیسا کہ خدائے تعالیٰ نے آپ فرمایا ہے وَ تِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَلِمُونَ یعنی یہ مثالیں ہم لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں پر ان کو معقول طور پر وہی سمجھتے ہیں کہ جو صاحب علم اور دانشمند ہیں۔( براہینِ احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۳۰۱،۳۰۰ حاشیه ۱۱) أتلُ مَا أَوْحَى إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَب وَاَقِمِ الصَّلوةَ إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَ لَذِكْرُ اللهِ اَكْبَرُ وَاللهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ ) ۴۶ نماز میں لذت اور سرور بھی عبودیت اور ربوبیت کے ایک تعلق سے پیدا ہوتا ہے۔جب تک اپنے آپ کو عدم محض یا مشابہہ بالعدم قرار دے کر جور بوبیت کا ذاتی تقاضا ہے نہ ڈال دے اس کا فیضان اور پر تو اس پر نہیں پڑتا اور اگر ایسا ہو تو پھر اعلیٰ درجہ کی لذت حاصل ہوتی ہے جس سے بڑھ کر کوئی حق نہیں ہے۔اس مقام پر انسان کی روح جب ہمہ نیستی ہو جاتی ہے تو وہ خدا کی طرف ایک چشمہ کی طرح بہتی ہے اور ماسوی اللہ سے اسے انقطاع ہو جاتا ہے اس وقت خدائے تعالیٰ کی محبت اس پر گرتی ہے۔اس اتصال کے وقت ان دو جوشوں سے جو اوپر کی طرف سے ربوبیت کا جوش اور نیچے کی طرف سے عبودیت کا جوش ہوتا ہے ایک خاص