تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 265
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۵ سورة العنكبوت ہے اور خدا تعالیٰ بھی اس سے لا پرواہ ہے۔ایک بیٹا اگر باپ کی پرواہ نہ کرے اور نا خلف ہو تو باپ کو اس کی پرواہ نہیں ہوتی تو خدا کو کیوں ہو۔البدر جلد ۲ نمبر ۴ مورخه ۱۳ / فروری ۱۹۰۳ ء صفحه ۲۸) نماز بھی گناہوں سے بچنے کا ایک آلہ ہے۔نماز کی یہ صفت ہے کہ یہ انسان کو گناہ اور بدکاری سے ہٹا دیتی ہے۔سوتم ویسی نماز کی تلاش کرو اور اپنی نماز کو ایسی بنانے کی کوشش کرو۔نماز نعمتوں کی جان ہے اللہ تعالیٰ کے فیض اسی نماز کے ذریعہ سے آتے ہیں سو اس کو سنوار کر ادا کرو تا کہ تم اللہ تعالیٰ کی نعمت کے وارث بنو۔انتقام جلدے نمبر ۹ مورخہ ۱۰؍ مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۸) نماز ہر ایک مسلمان پر فرض ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قوم اسلام لائی اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ہمیں نماز معاف فرما دی جاوے کیونکہ ہم کاروباری آدمی ہیں۔مویشی وغیرہ کے سبب سے کپڑوں کا کوئی اعتماد نہیں ہوتا اور نہ ہمیں فرصت ہوتی ہے تو آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ دیکھو جب نماز نہیں تو ہے ہی کیا ؟ وہ دین ہی نہیں جس میں نماز نہیں۔نماز کیا ہے؟ یہی کہ اپنے عجز نیاز اور کمزوریوں کو خدا کے سامنے پیش کرنا اور اسی سے اپنی حاجت روائی چاہنا۔بھی اس کی عظمت اور اس کے احکام کی بجا آوری کے واسطے دست بستہ کھڑا ہونا اور کبھی کمال مذلت اور فروتنی سے اس کے آگے سجدہ میں گر جانا۔اس سے اپنی حاجات کا مانگنا یہی نماز ہے۔ایک سائل کی طرح کبھی اس مسئول کی تعریف کرنا کہ تو ایسا ہے تو ایسا ہے۔اس کی عظمت اور جلال کا اظہار کر کے اس کی رحمت کو جنبش دلانا اور پھر اس سے مانگنا۔پس جس دین میں یہ نہیں وہ دین ہی کیا ہے۔انسان ہر وقت محتاج ہے کہ اس سے اس کی رضا کی راہیں مانگتار ہے اور اس کے فضل کا اسی سے خواستگار ہو کیونکہ اسی کی دی ہوئی توفیق سے کچھ کیا جاسکتا ہے۔اے خدا ہم کو توفیق دے کہ ہم تیرے ہو جائیں اور تیری رضا پر کار بند ہو کر مجھے راضی کر لیں۔خدا کی محبت ، اسی کا خوف ، اسی کی یاد میں دل لگا ر ہنے کا نام نماز ہے اور یہی دین ہے۔پھر جو شخص نماز ہی سے فراغت حاصل کرنی چاہتا ہے اس نے حیوانوں سے بڑھ کر کیا کیا ؟ وہی کھانا پینا اور حیوانوں کی طرح سور بنا۔یہ تو دین ہر گز نہیں۔یہ سیرت کفار ہے بلکہ جو دم غافل وہ دم کا فروالی بات بالکل راست اور صحیح ہے۔چنانچہ قرآن شریف میں ہے کہ اذْكُرُونِي أَذْكُرُكُمْ وَاشْكُرُوا نِي وَلَا تَكْفُرُونِ (البقرة : ۱۵۸) یعنی اے میرے بندو تم مجھے یاد کیا کرو اور میری یاد میں مصروف رہا کرو میں بھی تم کو نہ بھولوں گا تمہارا خیال رکھوں گا۔اور میرا شکر کیا کرو، میرے انعامات کی قدر کیا کرو اور کفر نہ کیا کرو۔