تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 214 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 214

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۴ سورة الشعراء ردیف کے پیچھے ہر یک جنگل میں بھٹکتے پھرتے ہیں یعنی کسی حقانی صداقت کے پابند نہیں رہتے اور جو کچھ کہتے ہیں وہ کرتے نہیں اور ظالموں کو عنقریب معلوم ہوگا کہ ان کا مرجع اور مآب کون سی جگہ ہے۔( براہینِ احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۴۶ حاشیہ نمبر۱۱) شاعر تو اگر مر بھی جاویں تو صداقت اور راستی و ضرورت حقہ کا اپنے کلام میں التزام نہ کر سکیں وہ تو بغیر فضول گوئی کے بول ہی نہیں سکتے اور ان کی ساری کل فضول اور جھوٹ پر ہی چلتی ہے۔اگر جھوٹ نہیں یا فضول گوئی نہیں تو پھر شعر بھی نہیں۔اگر تم ان کا فقرہ فقرہ تلاش کرو کہ کس قدر حقائق دقائق ان میں جمع ہیں کس قدر راستی اور صداقت کا التزام ہے۔کس قدر حق اور حکمت پر قیام ہے۔کس ضرورت حقہ سے وہ باتیں ان کے منہ سے نکلی ہیں اور کیا کیا اسرار بیشل و مانند ان میں لیٹے ہوئے ہیں تو تمہیں معلوم ہو کہ ان تمام خوبیوں میں سے کوئی بھی خوبی ان کی مردہ عبارات میں پائی نہیں جاتی۔ان کا تو یہ حال ہوتا ہے کہ جس طرف قافیہ ردیف ملتا نظر آیا اسی طرف جھک گئے اور جو مضمون دل کو اچھا لگا وہی جھک ماری۔نہ حق اور حکمت کی پابندی ہے اور نہ فضول گئی سے پر ہیز ہے اور نہ یہ خیال ہے کہ اس کلام کے بولنے کے لئے کون سی سخت۔ضرورت درپیش ہے اور اس کے ترک کرنے میں کون سا سخت نقصان عائد حال ہے ناحق بے فائدہ فقرہ سے فقرہ ملاتے ہیں۔سر کی جگہ پاؤں، پاؤں کی جگہ سر لگاتے ہیں۔سراب کی طرح چمک تو بہت ہے پر حقیقت دیکھو تو خاک بھی نہیں۔شعبدہ باز کی طرح صرف کھیل ہی کھیل اصلیت دیکھو تو کچھ بھی نہیں۔نادار ناطاقت اور نا تو اں اور گئے گزرے ہیں۔آنکھیں اندھی اور اس پر عشوہ گری۔ان کی نسبت نہایت ہی نرمی کیجئے تو یہ کیسے کہ وہ سب ضعیف اور بیچ ہونے کی وجہ سے عنکبوت کی طرح ہیں اور ان کے اشعار بیت معنکبوت ہیں ان کی نسبت خداوند کریم نے خوب فرمایا ہے وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوَنَ - اَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ۔۔۔۔۔وَ سَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَتَى مُنْقَلبِ يَنْقَلِبُونَ یعنی شاعروں کے پیچھے وہی لوگ چلتے ہیں جنہوں نے حق اور حکمت کا راستہ چھوڑ دیا ہے۔کیا تو نہیں دیکھتا کہ شاعر تو وہ لوگ ہیں جو قافیہ اور ردیف اور مضمون کی تلاش میں ہر یک جنگل میں بھٹکتے پھرتے ہیں۔حقانی باتوں پر ان کا قدم نہیں جمتا اور جو کچھ کہتے ہیں وہ کرتے نہیں۔سو ظالم لوگ جو خدا کے حقانی کلام کو شاعروں کے کلام اسے تشبیہ دیتے ہیں انہیں عنقریب معلوم ہوگا کہ کس طرف پھریں گے۔( براہین احمدیہ چہارحص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۴۶۷ تا ۴۷۰ حاشیه ) -