تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 213 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 213

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۳ سورة الشعراء ہے کیونکہ قرآن شریف کے بیان سے شیطانی الہام ثابت ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تک انسان کا تزکیہ نفس پورے اور کامل طور پر نہ ہو تب تک اس کو شیطانی الہام ہو سکتا ہے اور وہ آیت عَلى كُلِّ آفَاكِ اشیم کے نیچے آ سکتا ہے مگر پاکوں کو شیطانی وسوسہ پر بلا توقف مطلع کیا جاتا ہے۔ضرورت الامام، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۴۸۳، ۴۸۴) کیا میں بتلاؤں کہ کن پر شیطان اترا کرتے ہیں۔ہر ایک جھوٹے مفتری پر اترتے ہیں۔انجام آنتم ، روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحه ۵۲) کیا میں تمہیں بتلاؤں کہ کن لوگوں پر شیطان اترا کرتے ہیں۔ہر ایک جھوٹے مفتری پر اترتے ہیں۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۷۶) یادر ہے کہ رحمانی الہام اور وحی کے لئے اول شرط یہ ہے کہ انسان محض خدا کا ہو جائے اور شیطان کا کوئی حصہ اس میں نہ رہے کیونکہ جہاں مردار ہے ضرور ہے کہ وہاں کتے بھی جمع ہو جائیں اسی لئے اللہ تعالی فرماتا ب هَلْ أَتَيْتُكُمْ عَلَى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيطِيْنُ - تَنَزَلُ عَلى كُلِّ أَفَاكِ أثِيم۔مگر جس میں شیطان کا حصہ نہیں رہا اور وہ سفلی زندگی سے ایسا دور ہوا کہ گویا مر گیا اور راست باز اور وفادار بندہ بن گیا اور خدا کی طرف آگیا اس پر شیطان حملہ نہیں کر سکتا۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۴۲) کیا میں تم کو یہ خبر دوں کہ جنات کن لوگوں پر اترا کرتے ہیں۔جنات انہیں پر اترا کرتے ہیں کہ جو دروغ گو اور معصیت کا رہیں۔يُلْقُونَ السَّمْعَ وَأَكْثَرُهُمْ كَذِبُونَ (براہین احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۴۶ حاشیه ) اورا اور اکثر ان کی پیشینگوئیاں جھوٹی ہوتی ہیں۔(برائین احمد یہ چہار تحص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۴۶ حاشیه ) لا وَالشُّعَرَاء يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوْنَ اَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ وَ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ وَذَكَرُوا اللهَ كَثِيرًا و انْتَصَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَلَى مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ۔اور شاعروں کی پیروی تو وہی لوگ کرتے ہیں کہ جو گمراہ ہیں کیا تمہیں معلوم نہیں کہ شاعر لوگ قافیہ اور