تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 174 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 174

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۴ سورة الفرقان مقدار سے لے کر جو بغیر ڈور بین کے دکھائی نہیں دے سکتے اُن بڑی بڑی مچھلیوں کی مقدار تک جو ایک بڑے جہاز کو بھی چھوٹے سے لقمہ کی طرح نگل سکتی ہیں۔حیوانی اجسام میں ایک عجیب نظارہ حد بندی کا نظر آتا ہے کوئی جانور اپنے جسم کی رُو سے اپنی حد سے باہر نہیں جاسکتا۔ایسا ہی وہ تمام ستارے جو آسمان پر نظر آتے ہیں اپنی اپنی حد سے باہر نہیں جاسکتے۔پس یہ حد بندی دلالت کر رہی ہے کہ در پردہ کوئی حد باندھنے والا ہے۔یہی معنی اس مذکورہ بالا آیت کے ہیں کہ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا۔اب واضح ہو کہ جیسا کہ یہ حد بندی اجسام میں پائی جاتی ہے ایسا ہی یہ حد بندی ارواح میں بھی ثابت ہے۔تم سمجھ سکتے ہو کہ جس قدر انسانی روح اپنے کمالات ظاہر کر سکتا ہے یا یوں کہو کہ جس قدر کمالات کی طرف ترقی کر سکتا ہے وہ کمالات ایک ہاتھی کی روح کو با وجود تعلیم اور جسیم ہونے کے حاصل نہیں ہو سکتے۔اسی طرح ہر ایک حیوان کی رُوح بلحاظ اپنی قوتوں اور طاقتوں کے اپنے نوع کے دائرہ کے اندر محدود ہے اور وہی کمالات حاصل کر سکتے ہیں کہ جو اس کے نوع کے لئے مقرر اور مقدر ہیں۔پس جس طرح اجسام کی حد بندی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اُن کا کوئی حد باندھنے والا اور خالق ہے۔اسی طرح ارواح کی طاقتوں کی حد بندی اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ اُن کا بھی کوئی خالق اور حد باندھنے والا ہے۔اور اس جگہ تناسخ کا لغو اور بیہودہ جھگڑا پیش کرنا خدا تعالیٰ کے کاموں میں اختلاف ڈالنا ہے کیونکہ عقل صریح شہادت دیتی ہے کہ یہ دونوں حد بندیاں ایک ہی انتظام کے ماتحت ہیں اور ان دونوں حد بندیوں سے ایک ہی مقصود ہے اور وہ یہ کہ تا حد بندی سے حد باندھنے والے کا پتہ لگ جائے اور تا معلوم ہو جائے کہ جیسا کہ وہ اجسام کا خالق اور حد باندھنے والا ہے ایسا ہی وہ ارواح کا خالق اور حد باندھنے والا ہے۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۷ تا ۱۹) خداوہ ہے جس نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا اور کوئی چیز اس کی پیدائش سے باہر نہیں اور اُس نے پیدا کر کے ہر ایک کے جسم اور طاقتوں اور قوتوں اور خواص اور صورت اور شکل کو ایک حد کے اندر محدود کر دیا تا اس کا محدود ہونا محدد پر دلالت کرے جو ذات باری عزاسمہ ہے مگر آپ وہ غیر محدود ہے اس لئے اس کی نسبت سوال نہیں ہوسکتا کہ اس کا محددکون ہے۔غرض آیت ممدوحہ بالا میں خدا تعالیٰ نے صاف فرما دیا کہ ہر ایک چیز جو ظہور پذیر ہوئی ہے مع اپنی تمام قوتوں اور طاقتوں کے خدا کی پیدا کردہ ہے پس یہی کامل تو حید ہے جو خدا تعالیٰ کو تمام فیوض کا سر چشمہ قرار دیتی ہے اور کوئی ایسی چیز قرار نہیں دیتی جو اس کی پیدا کردہ نہیں یا اسی کے