تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 173
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ خدا نے ہر یک چیز کو پیدا کیا اور اس کا اندازہ بھی آپ اپنے اختیار سے مقرر کر دیا۔سورة الفرقان ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۳۱) قرآن شریف نے وید کی طرح بے وجہ اور محض زبردستی کے طور پر اللہ جل شانہ کو تمام ارواح اور ہر ایک ذرہ ذرہ اجسام کا مالک نہیں ٹھہرایا بلکہ اس کی ایک وجہ بیان کی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے لَهُ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ۔۔۔۔خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا - ( ترجمہ ) یعنی زمین اور آسمان اور جو کچھ اُن میں ہے سب خدا تعالیٰ کی ملکیت ہے کیونکہ وہ سب چیزیں اُسی نے پیدا کی ہیں اور پھر ہر ایک مخلوق کی طاقت اور کام کی ایک حد مقرر کر دی ہے تا محدود چیزیں ایک محدد پر دلالت کریں جو خدا تعالیٰ ہے سو ہم دیکھتے ہیں کہ جیسا کہ اجسام اپنے اپنے حدود میں مقید ہیں اور اس حد سے باہر نہیں ہو سکتے اسی طرح ارواح بھی مقید ہیں اور اپنی مقررہ طاقتوں سے زیادہ کوئی طاقت پیدا نہیں کر سکتے۔اب پہلے ہم اجسام کے محدود ہونے کے بارہ میں ۳۰۰ بعض مثالیں پیش کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ مثلاً چاند ایک مہینہ میں اپنا دورہ ختم کر لیتا ہے یعنی انتیس یا تیں دن تک مگر سورج تین سو چونسٹھ دن میں اپنے دورہ کو پورا کرتا ہے اور سورج کو یہ طاقت نہیں ہے کہ اپنے دورہ کو اس قدر کم کر دے جیسا کہ چاند کے دورہ کا مقدار ہے اور نہ چاند کی یہ طاقت ہے کہ اس قدر اپنے دورہ کے دن بڑھا دے کہ جس قدر سورج کے لئے دن مقرر ہیں اور اگر تمام دنیا اس بات کے لئے اتفاق بھی کر لے کہ ان دونوں نیتروں کے دوروں میں کچھ کمی بیشی کر دیں تو یہ ہر گز اُن کے لئے ممکن نہیں ہوگا اور نہ خود سورج اور چاند میں یہ طاقت ہے کہ اپنے اپنے دوروں میں کچھ تغیر تبدل کر ڈالیں۔پس وہ ذات جس نے ان ستاروں کو اپنی اپنی حد پر ٹھہرا رکھا ہے یعنی جو اُن کا محمد داور حد باندھنے والا ہے وہی خدا ہے۔ایسا ہی انسان کے جسم اور ہاتھی کے جسم میں بڑا فرق ہے اگر تمام ڈاکٹر اس بات کے لئے اکٹھے ہوں کہ انسان اپنی جسمانی طاقتوں اور جسم کی ضخامت میں ہاتھی کے برابر ہو جاوے تو یہ اُن کے لئے غیر ممکن ہے۔اور اگر یہ چاہیں کہ ہاتھی محض انسان کے قد تک محدود ہے تو یہ بھی اُن کے لئے غیر ممکن ہے پس اس جگہ بھی ایک تحدید ہے یعنی حد باندھنا جیسا کہ سورج اور چاند میں ایک تحدید ہے اور وہی تحدید ایک محمد د یعنی حد باندھنے والے پر دلالت کرتی ہے یعنی اس ذات پر دلالت کرتی ہے جس نے ہاتھی کو وہ مقدار بخشا اور انسان کے لئے وہ مقدار مقرر کیا۔اور اگر غور کر کے دیکھا جائے تو ان تمام جسمانی چیزوں میں عجیب طور سے خدا تعالیٰ کا ایک پوشیدہ تصرف نظر آتا ہے اور عجیب طور پر اس کی حد بندی مشاہدہ ہوتی ہے۔اُن کیڑوں کی