تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 175
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سہارے سے جیتی نہیں۔۱۷۵ سورة الفرقان (چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۶۵) بعض ایسی تقدیریں جو تقدیر مبرم کے مشابہ ہوں بدلائی بھی جاتی ہیں مگر جو تقدیر حقیقی اور واقعی طور پر مبرم ہے وہ مومن کامل کی دعاؤں سے ہر گز بدلائی نہیں جاتی اگر چہ وہ مومن کامل نبی یا رسول کا ہی درجہ رکھتا ہو۔آسمانی فیصلہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۲۴) یہ سچ ہے کہ ہر ایک امر پر تقدیر محیط ہورہی ہے مگر تقدیر نے علوم کو ضائع اور بے حرمت نہیں کیا اور نہ اسباب کو بے اعتبار کر کے دکھلایا بلکہ اگر غور کر کے دیکھو تو یہ جسمانی اور روحانی اسباب بھی تقدیر سے باہر نہیں ہیں۔مثلاً اگر ایک بیمار کی تقدیر نیک ہو تو اسباب علاج پورے طور پر میسر آجاتے ہیں اور جسم کی حالت بھی ایسے درجہ پر ہوتی ہے کہ وہ ان سے نفع اٹھانے کے لئے مستعد ہوتا ہے تب دوا نشانہ کی طرح جاکر اثر کرتی ہے۔یہی قاعدہ دعا کا بھی ہے یعنی دعا کے لئے بھی تمام اسباب و شرائط قبولیت اسی جگہ جمع ہوتے ہیں جہاں ارادہ الہی اس کے قبول کرنے کا ہے۔خدا تعالیٰ نے اپنے نظام جسمانی اور روحانی کو ایک ہی سلسلہ مؤثرات اور متاثرات میں باندھ رکھا ہے۔بركات الدعا،روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۲،۱۱) تقدیر دو قسم کی ہوتی ہے ایک کا نام معلق ہے اور دوسری کو مبرم کہتے ہیں۔اگر کوئی تقدیر معلق ہو تو دعا اور صدقات اس کو ٹلا دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس تقدیر کو بدل دیتا ہے اور مبرم ہونے کی صورت میں وہ صدقات اور دعا اس تقدیر کے متعلق کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتے ہاں وہ عبث اور فضول بھی نہیں رہتی کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی شان کے خلاف ہے۔وہ اس دعا اور صدقات کا اثر اور نتیجہ کسی دوسرے پیرائے میں اس کو پہنچا دیتا ہے۔بعض صورتوں میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کسی تقدیر میں ایک وقت تک توقف اور تاخیر ڈال دیتا ہے۔قضائے معلق اور مبرم کا ماخذ اور پتہ قرآن کریم سے ملتا ہے۔یہ الفاظ کو نہیں۔مثلاً قرآن کریم میں فرمایا ہے اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن : ۶۱) دعا مانگو میں قبول کروں گا۔اب یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا قبول ہوسکتی ہے اور دعا سے عذاب ٹل جاتا ہے اور ہزار ہا کیا کل کام دعا سے نکلتے ہیں۔یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اللہ تعالی کا کل چیزوں پر قادرانہ تصرف ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔اس کے پوشیدہ تصرفات کی لوگوں کو خواہ خبر ہو یا نہ ہومگر صد ہا تجربہ کاروں کے وسیع تجربے اور ہزار ہا دردمندوں کی دعا کے صریح نتیجے بتلا رہے ہیں کہ اس کا ایک پوشیدہ اور مخفی تصرف ہے وہ جو چاہتا ہے محو کرتا ہے اور جو چاہتا ہے اثبات کرتا ہے۔ہمارے لئے یہ امر ضروری نہیں کہ ہم اس کی تہہ تک پہنچنے اور اس کی کنہ اور کیفیت معلوم