تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 160 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 160

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 17۔سورة النُّور الْمُتَعَضِينَ۔ثُمَّ انْظُرْ أَنَّ هَذِهِ الْآيَاتِ کے لئے پیشگوئیاں تھیں تاکہ ان کے ظہور کے وقت كَانَتْ مِنَ الْأَنْبَاءِ الْمُسْتَقْبِلَةِ لِتَزِيْد مومنوں کا ایمان بڑھ جائے اور وہ اللہ کے وعدوں کو إِيْمَانُ الْمُؤْمِنِينَ عِنْدَ ظُهُورِهَا۔پہچان لیں۔کیونکہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت وَلِيَعْرِفُوا مَوَاعِيْد حَطرَةِ الْعِزَّةِ فَإِنَّ الله صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اسلام میں فتنے پیدا ہونے أَخْبَرَ فِيهَا عَنْ زَمَانٍ حُلُولِ الْفِتَنِ اور اس پر مصائب نازل ہونے کی خبر دی تھی اور ان میں وَنُزُولِ الْمَصَائِبِ عَلَى الْإِسْلَامِ بَعْدَ یہ وعدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ اس وقت بعض مومنوں کو خلیفہ بنائے وَفَاةِ خَيْرِ الْأَنَامِ، وَوَعَدَ أَنَّهُ سَيَسْتَخْلِفُ گا اور خوف کے بعد ان کو امن دے گا اور ان کے متزلزل في ذلِك الزَّمَنِ بَعْضًا من الْمُؤْمِنِينَ دین کو تقویت بخشے گا اور مفسدین کو ہلاک کرے گا۔اور وَيُؤْمِنُهُمْ مِنْ بَعْدِ خِوْفِهِمْ وَيُمَكِّن اس میں کوئی شک نہیں کہ اس پیشگوئی کا مصداق سوائے دِينَهُ الْمُتَزَلْزِلَ وَيُهْلِكُ الْمُفْسِدِينَ وَلَا حضرت ابوبکر صدیق کے اور ان کے زمانے کے کوئی نہیں۔شَكَ أَنَّ مِصْدَاقَ هَذَا النَّبَأُ لَيْسَ إِلَّا أَبو پس انکار نہ کریں کیونکہ اس کی دلیل تو ظاہر ہوگئی ہے۔بَكْرٍ وَزَمَانُهُ، فَلَا تُنْكِرُ وَقَدْ حَصْحَصَ حضرت ابوبکر نے اسلام کو ایسی دیوار کی طرح پایا جو مفسدین بُرْهَانُهُ إِنَّهُ وَجَدَ الإِسْلَام تَجِدَارٍ يُريدُ کی شرارت کی وجہ سے گرنے کو تھی۔خدا تعالیٰ نے اس کو أَن يُنقَضٌ مِن شَرِ أَشْرَارٍ فَجَعَلَهُ اللهُ بِيَدِهِ ان کے ہاتھوں ایک چو نہ بیچ ، مضبوط اونچے قلعہ کی طرح كَحِصْنٍ مُّشَيَّدٍ لَهُ جُدْرَانٌ مِنْ حَدِيدٍ بنا دیا جس کی دیوار میں فولادی تھیں اور اس میں ایسی فوج وَفِيْهِ فَوْجٌ مُّطِيْعُونَ كَعَبِيْدٍ فَانْظُرْ هَل تھی جو غلاموں کی طرح فرمانبردار تھی۔پس غور کریں کیا تَجِدُ مِن زَيْبٍ في هذا، أَوْ يَسُوعُ عِندَكَ اس میں آپ کے لئے کوئی شک کی گنجائش ہے یا اس کی إِتْيَانُ نَظِيْرِهِ مِنْ زُمَرٍ أَخَرِيْنَ؟ نظیر آپ کے نزدیک اور جماعتوں سے لاناممکن ہے۔(سر الخلافة ، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۳۳۳ تا ۳۳۶) (ترجمه از مرتب) کیا یہ سچ نہیں ہے کہ قرآن شریف نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مثیل موسی قرار دیا ہے اور کیا یہ سچ نہیں ہے کہ قرآن کریم نے نہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مثیل موسی قرارد یا بلکہ آیت كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ میں تمام سلسلہ خلافت محمدیہ کو سلسلہ خلافت موسویہ کا مثیل قرار دے دیا ہے۔پس اس صورت میں قطعا و وجو ہا لازم آتا ہے کہ سلسلۂ خلافتِ اسلامیہ کے آخر میں ایک مثیل عیسی پیدا ہو اور چونکہ اول اور