تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xix of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page xix

صفح ۲۲۸ ۲۲۸ ۲۲۹ ۲۳۰ ٢٣١ ۲۳۲ ۲۳۲ ۲۳۲ ۲۳۳ xviii مضمون نمبر شمار ۱۴۸ جو آسمانی قوت کے ساتھ آنے والا تھا اس کو نزول کے لفظ سے یاد کیا گیا جو زمینی قوت کے ساتھ نکلنے والا تھا اس کو خروج کے لفظ کے ساتھ پکارا گیا ۱۴۹ دابتہ الارض در حقیقت اسم جنس ایسے علماء کے لئے ہے جو ذ و جہتین واقع ہوئے ہیں ایک تعلق ان کا دین اور حق سے ہے ایک تعلق دنیا اور دجالیت سے ہے ۱۵۰ ۱۵۱ میرے دل میں ڈالا گیا کہ وہ دابتہ الارض طاعون ہے جس کی نسبت قرآن شریف میں وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں ہم اس کو نکالیں گے قرآن شریف میں جہاں کہیں ( دابتہ ) کا یہ مرکب نام آیا ہے اس سے مراد کیٹر الیا گیا ہے ۱۵۲ جب بات کی حقیقت کھل جائے تو ایسے اوہام باطلہ کے ساتھ حقیقت کو چھوڑنا کمال جہالت ہے اسی عادت سے بد بخت یہودی قبول حق سے محروم رہ گئے ۱۵۳ آنحضرت کی تدریجی ترقی میں یہ سر تھا کہ آپ کی ترقی کا ذریعہ محض قرآن تھا یہ جو اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا وہ دابتہ الارض زمین سے نکلے گا اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب مسلمان اور ان کے علماء زمین کی طرف جھک کر خود دابتہ الارض بن جائیں گے ۱۵۴ ۱۵۵ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ اس کے وقت تثلیث کا مذہب ترقی پر ہوگا اور بہت سے بدقسمت انسان عیسائی ہو جائیں گے اس لئے اس نے مسلمانوں کو دعا سکھائی اور دعا میں مغضوب کا لفظ کہہ رہا ہے کہ وہ لوگ اسلامی مسیح کی مخالفت کریں گے ۱۵۶ دابتہ الارض کے دو معنی ہیں ایک وہ علماء جن کو آسمان سے حصہ نہیں ملا دوسرے دابتہ الارض سے مراد طاعون ہے