تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page xviii
صفح ۲۱۸ ۲۱۸ ۲۱۸ ۲۱۹ ۲۲۰ ۲۲۰ ۲۲۱ ۲۲۳ ۲۲۴ تا ۲۲۵ ۲۲۵ ۲۲۵ ۲۲۵ xvii نمبر شمار ۱۳۶ مضمون جب روحانی سلطنت بدلتی ہے تو پہلی سلطنت پر تباہی آتی ہے ۱۳۷ مومن کے لئے ایک آخری امتحان اور آخری جنگ ہے جس پر اس کے تمام مراتب سلوک ختم ہو جاتے ہیں ۱۳۸ پانچویں حالت جس کے مفاسد سے نہایت سخت اور شدید محبت نفس امارہ سے ہے ۱۳۹ ایک برتر ہستی کی تلاش اور کشش انسان کی فطرت میں پائی جاتی ہے ۱۴۰ ۱۴۱ ۱۴۲ قرآن شریف میں ملکہ بلقیس کا قصہ یہ بڑے بڑے اجرام جو نظر آتے ہیں جیسے آفتاب و مہتاب وغیرہ یہ وہی صاف شیشے ہیں جن کی غلطی سے پرستش کی گئی دنیا ایک شیش محل ہے تمام کاموں کے پیچھے ایک مخفی طاقت ہے جو خدا ہے ۱۴۳ مدینہ میں نوشریروں کا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے قتل کا منصوبہ ۱۴۴ عذاب الہی جب دنیا میں نازل ہوتا ہے وہ بھی نازل ہوتا ہے جب شرارت، ظلم اور تکبر اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے ۱۴۵ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اپنی شناخت کی یہ علامت ٹھہرائی ہے کہ تمہارا خداوہ ہے جو بے قراروں کی دعا سنتا ہے ۱۴۶ کلام الہی میں لفظ مضطر سے وہ ضرر یافتہ مراد ہیں جو محض ابتلاء کے طور پر ضرر یافتہ ہوں نہ سزا کے طور پر ۱۴۷ دوسری شرط قبولیت دعا کے واسطے یہ ہے کہ جس کے واسطے انسان دعا کرتا ہو اس کے لئے دل میں درد ہو