تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xx of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page xx

صفح ۲۳۴ ۲۳۸ ۲۳۹ ۲۳۹ ،۲۴۰ ۲۴۱ ۲۴۱ ۲۴۴ ۲۴۷ ۲۴۹ ۲۴۸ Xix مضمون نمبر شمار ۱۵۷ ۱۵۸ ۱۵۹ ۱۶۰ ۱۶۱ ۱۶۲ ۱۶۳ مسیح موعود کے متعلق پیشگوئی ہے کہ اس کے دعاوی کا بہت بڑا انحصار اور دارو مدار نشانات پر ہوگا یہ بات بالکل غلط ہے کہ امت میں الہام کا دروازہ بند ہے اللہ تعالیٰ کے امت کے بعض مردوں اور عورتوں سے کلام کا قرآن کریم میں ذکر ہے موسیٰ پر مکا مارنے کا عیسائیوں کا الزام ہے وہ گناہ نہیں تھا انبیاء کو خدا ذلیل نہیں کیا کرتا انبیاء کی قوت ایمانی یہ ہے کہ خدا کی راہ میں جان دینا وہ اپنی سعادت جانیں یادر ہے کہ اگر چہ شرک بھی ایک ظلم بلکہ ظلم عظیم ہے مگر اس جگہ ظلم سے مراد وہ سرکشی ہے جو حد سے گذر جائے اور مفسدانہ حرکات انتہا تک پہنچ جائیں اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دو احمد وں کا ذکر فرما کر ہر دو کو اپنی بے پایاں نعمتوں میں شمار کیا ہے ہر ایک چیز کے لئے بجزا اپنی ذات کے موت ضروری ٹھہرادی پس جیسا کہ جسمی ترکیب میں انحلال ہو کر جسم پر موت آتی ہے ایسا ہی روحانی صفات میں تغیر پیدا ہوکر روح پر موت آجاتی ہے ۱۹۴ ایمان اس بات کو کہتے ہیں کہ اس حالت میں مان لینا جبکہ ابھی علم کمال ۱۶۵ ۱۶۶ تک نہیں پہنچا اور شکوک وشبہات سے ہنوز لڑائی ہے رضوان و قرب الہی حاصل کرنے کے دو ہی طریق ہیں ایک تو تشریح احکام سے ترقی ہوتی ہے۔۔۔دوسرے وہ تکالیف ہیں جو خدا انسان کے سر پر ڈالتا ہے آیت قرآنى آحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ کا ایک یہودی کے دل پر غیر معمولی اثر ہوا اور قبول اسلام کا باعث بنی