تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xvii of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page xvii

xvi نمبر شمار ۱۲۶ ۱۲۷ ۱۲۸ ۱۲۹ ۱۳۰ ۱۳۱ ۱۳۲ مضمون ہر ایک کو لازم ہے کہ اپنے نفس کو شیطان کی غلامی سے باہر کرے یہ نور ہدایت جو خارق عادت طور پر عرب کے جزیرہ میں ظہور میں آیا اور پھر دنیا میں پھیل گیا۔۔۔۔یہ تمام برکتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کا نتیجہ تھا خدا تعالیٰ مخلوق کے مستعد دلوں پر اپنے نشانوں کے ساتھ اپنا چہرہ ظاہر کر دیتا ہے اور اس کی پر جوش دعاؤں کی تحریک سے۔۔۔۔خدا تعالیٰ کے نشان زمین پر بارش کی طرح برستے ہیں مامورمن اللہ جب آتا ہے اس کی فطرت میں سچی ہمدردی رکھی جاتی ہے یہ ہمدردی عوام سے بھی ہوتی ہے اور جماعت سے بھی معلم اور واعظ کا تو اتنا ہی فرض ہے کہ وہ بتا دے دل کی کھڑکی تو خدا کے فضل سے کھلتی ہے خدا کے نبی شہرت پسند نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنے تئیں چھپانا چاہتے ہیں مگر حکم الہی انہیں باہر نکالتا ہے اللہ جامع جمیع شیون کا ہے اور اسم اعظم ہے رسول اللہ علیہ وسلم اور آپ کی جماعت کے ساتھ اسم اعظم کی معیت مع تمام صفات کے پائی جاتی ہے ۱۳۳ اصل میں انسان جوں جوں اپنے ایمان کو کامل کرتا ہے اور یقین میں پکا ہوتا جاتا ہے توں توں اللہ تعالیٰ اس کے واسطے خود علاج کرتا ہے ۱۳۴ نودی کے لفظ میں یہ اشارہ ہے کہ اس نے آگ کے اندر اور اردگر دکو ۱۳۵ برکت دی وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنْفُسُهُمُ ان کے دل ان نشانوں پر یقین کر گئے صفح ۱۹۶ ۲۰۱ ۲۰۱ ۲۰۴ ۲۰۵ ۲۰۶ ۲۰۹ ۲۰۹ ۲۱۷ ۲۱۸