تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 138 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 138

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۸ سورة النُّور الحمد لله والمئة کہ ایسا ہی ظہور میں آیا کیونکہ بخاری اور مسلم میں یہ حدیث متفق علیہ ہے جو جابر بن سمرہ سے ہے اور وہ یہ ہے لَا يَزالُ الْإِسْلَامُ عَزِيزًا إِلَى اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشِ یعنی بارہ خلیفوں کے ہوتے تک اسلام خوب قوت اور زور میں رہے گا مگر تیرھواں خلیفہ جو مسیح موعود ہے اُس وقت آئے گا جبکہ اسلام غلبۂ صلیب اور غلبہ دجالیت سے کمزور ہو جائے گا اور وہ بارہ خلیفے جو غلبہ اسلام کے وقت آتے رہیں گے وہ سب کے سب قریش میں سے ہوں گے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم میں سے ہوں گے۔* مگر مسیح موعود جو اسلام کے ضعف کے وقت آئے گا وہ قریش کی قوم میں سے نہیں ہوگا کیونکہ ضرور تھا کہ جیسا کہ موسوی سلسلہ کا خاتم الانبیاء اپنے باپ کے رو سے حضرت موسیٰ کی قوم میں سے نہیں ہے ایسا ہی محمد ی سلسلہ کا خاتم الاولیاء قریش میں سے نہ ہو اور اسی جگہ سے قطعی طور پر اس بات کا فیصلہ ہو گیا کہ اسلام کا مسیح موعود اسی امت میں سے آنا چاہئے کیونکہ جبکہ نص قطعی قرآنی یعنی گھا کے لفظ سے ثابت ہو گیا کہ سلسلہ استخلاف محمدی کا سلسلہ استخلاف موسوی سے مماثلت رکھتا ہے جیسا کہ اُسی گما کے لفظ سے ان دونبیوں یعنی حضرت موسیٰ اور حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی مماثلت ثابت ہے جو آیت كما اَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا (المزمل (١٢) سے سمجھی جاتی ہے تو یہ مماثلت اسی حالت میں قائم رہ سکتی ہے جبکہ محمدی سلسلہ کے آنے والے خلیفے گزشتہ الفاظ حدیث یہ ہیں۔عن جابر بن سمرة قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يَقُولُ لَا يَزَالُ الْإِسْلَامُ عَزِيزًا إِلَى اثْنَى عَشَرَ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ متفق عليه مشکوۃ شریف باب مناقب قریش۔یعنی اسلام باراں خلیفوں کے ظہور تک غالب رہے گا اور وہ تمام خلیفے قریش میں سے ہوں گے۔اس جگہ یہ دعوی نہیں ہوسکتا کہ مسیح موعود بھی انہی باراں میں داخل ہے کیونکہ متفق علیہ یہ امر ہے کہ مسیح موعود اسلام کی قوت کے وقت نہیں آئے گا بلکہ اس وقت آئے گا جبکہ زمین پر نصرانیت کا غلبہ ہوگا جیسا کہ يَكْسِرُ الصَّلیب کے فقرہ سے مستنبط ہوتا ہے۔پس ضرور ہے کہ مسیح کے ظہور سے پہلے اسلام کی قوت جاتی رہے اور مسلمانوں کی حالت پر ضعف طاری ہو جائے اور اکثر ان کے دوسری طاقتوں کے نیچے اسی طرح محکوم ہوں جیسا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے ظہور کے وقت یہودیوں کی حالت ہو رہی تھی۔چونکہ حدیثوں میں مسیح موعود کا خاص طور پر تذکرہ تھا اس لئے باراں خلیفوں سے اس کو الگ رکھا گیا کیونکہ مقدر ہے کہ وہ نزول شدائد ومصائب کے بعد آوے اور اس وقت آوے جبکہ اسلام کی حالت میں ایک صریح انقلاب پیدا ہو جائے اور اسی طرز سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئے تھے یعنی ایسے وقت میں جبکہ یہودیوں میں ایک صریح زوال کی علامت پیدا ہو گئی تھی پس اس طریق سے حضرت موسیٰ کے خلیفے بھی تیرہ ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفے بھی تیرہ اور جیسا کہ حضرت موسیٰ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام چودھویں جگہ تھے ایسا ہی ضرور تھا کہ اسلام کا مسیح موعود بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے چودھویں جگہ پر ہو اسی مشابہت سے مسیح موعود کا چودھویں صدی میں ظاہر ہونا ضروری تھا۔منہ۔