تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 137
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۷ سورة النُّور مماثلت کے لحاظ سے جو آیت ممدوحہ میں گیا کے لفظ سے مستنبط ہوتی ہے ضروری تھا کہ محمدی خلیفوں کو موسوی خلیفوں سے مشابہت و مماثلت ہو۔سو اسی مشابہت کے ثابت اور تحقیق کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں بارہ موسوی خلیفوں کا ذکر فرمایا جن میں سے ہر ایک حضرت موسیٰ کی قوم میں سے تھا اور تیرھواں حضرت عیسی علیہ السلام کا ذکر فرمایا جو موسیٰ کی قوم کا خاتم الانبیاء تھا مگر در حقیقت موسیٰ کی قوم میں سے نہیں تھا اور پھر خدا نے محمدی سلسلہ کے خلیفوں کو موسوی سلسلہ کے خلیفوں سے مشابہت دے کر صاف طور پر سمجھا دیا کہ اس سلسلہ کے آخر میں بھی ایک مسیح ہے اور درمیان میں باراں خلیفے ہیں تا موسوی سلسلہ کے مقابل پر اس جگہ بھی چوداں کا عدد پورا ہو ایسا ہی سلسلہ محمد کی خلافت کے مسیح موعود کو چودھویں صدی کے سر پر پیدا کیا کیونکہ موسوی سلسلہ کا مسیح موعود بھی ظاہر نہیں ہوا تھا جب تک کہ سن موسوی کے حساب سے چودھویں صدی نے ظہور نہیں کیا تھا ایسا کیا گیا تا دونوں مسیحوں کا مبدء سلسلہ سے فاصلہ باہم مشابہ ہو اور سلسلہ کے آخری خلیفہ مجدد کو چودھویں صدی کے سر پر ظاہر کرنا تکمیل نور کی طرف اشارہ ہے کیونکہ مسیح موعود اسلام کے قمر کا منظم نور ہے اس لئے اس کی تجدید چاند کی چودھویں رات سے مشابہت رکھتی ہے اس کی طرف اشارہ ہے اس آیت میں کہ ليُظهرة على الدين محلہ کیونکہ اظہار تام اور اتمام نور ایک ہی چیز ہے۔اور یہ قول کہ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الْأَدْيَانِ كُلَّ الْإِظْهَارِ مساوی اس قول سے ہے کہ لِيُتِمَّ نُورَهُ كُلَّ الإِثْمَامِ اور پھر دوسری آیت میں اس کی اور بھی تصریح ہے اور وہ یہ ہے - يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَ لَوْ كَرَة الكَفِرُونَ (الصف:۹) اس آیت میں تصریح سے سمجھایا گیا ہے کہ مسیح موعود چودھویں صدی میں پیدا ہوگا۔کیونکہ اتمام نور کے لئے چودھویں رات مقرر ہے۔غرض جیسا کہ قرآن شریف میں حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی بن مریم کے درمیان باراں خلیفوں کا ذکر فرمایا گیا اور اُن کا عدد بارہ ظاہر کیا گیا اور یہ بھی ظاہر کیا گیا کہ وہ تمام بارہ کے بارہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں سے تھے مگر تیرھواں خلیفہ جو اخیری خلیفہ ہے یعنی حضرت عیسی علیہ السلام اپنے باپ کے رُو سے اس قوم میں سے نہیں تھا کیونکہ اس کا کوئی باپ نہ تھا جس کی وجہ سے وہ حضرت موسیٰ سے اپنی شاخ ملا سکتا۔یہی تمام باتیں سلسلہ خلافت محمدیہ میں پائی جاتی ہیں یعنی حدیث متفق علیہ سے ثابت ہے کہ اس سلسلہ میں بھی درمیانی خلیفے باراں ہیں اور تیرھواں جو خاتم ولایت محمدیہ ہے وہ محمدی قوم میں سے نہیں ہے یعنی قریش میں سے نہیں اور یہی چاہئے تھا کہ باراں خلیفے تو حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم میں سے ہوتے اور آخری خلیفہ اپنے آباء واجداد کے رُو سے اس قوم میں سے نہ ہوتا تا تحقق مشابہت اکمل اور اتم طور پر ہو جاتا۔سو