تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 113 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 113

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ١١٣ سورة النُّور ہے کہ بسا اوقات ایک قوم کو مخاطب کرتا ہے مگر اصل مخاطب کوئی اور لوگ ہوتے ہیں جو گزر گئے یا آئندہ آنے والے ہیں مثلاً اللہ جل شانہ، سورۃ البقر میں یہود موجودہ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے لِبَنِي إِسْرَاءِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِي الَّتِي أَنْعَبْتُ عَلَيْكُمْ وَأَوْفُوا بِعَهْدِى أَوْفِ بِعَهْدِكُمْ وَ اِيَايَ فَارْهَبُونِ (البقرة : ۴۱) یعنی اے بنی اسرائیل اُس نعمت کو یاد کرو جو ہم نے تم پر انعام کی اور میرے عہد کو پورا کرو تا میں بھی تمہارے عہد کو پورا کروں اور مجھ سے پس ڈرو۔اب ظاہر ہے کہ یہود موجودہ زمانہ آنحضرت تو ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ کا مصداق تھے ان پر تو کوئی انعام بھی نہیں ہوا تھا اور نہ ان سے یہ عہد ہوا تھا کہ تم نے خاتم الانبیاء پر ایمان لانا۔پھر بعد اس کے فرمایا وَ إِذْ نَجَيْنَكُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ يُذَبِّحُونَ أَبْنَاءَكُمْ وَ ط يَسْتَحْيُونَ نِسَاءَكُمْ وَفِي ذَلِكُمْ بَلَا مِن رَّبِّكُمْ عَظِيمُ - وَإِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَانْجَيْنَكُمْ وَأَغْرَقْنَا ألَ فِرْعَوْنَ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُونَ - (البقرة : ۵۱۵۰) یعنی وہ وقت یاد کرو جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی وہ تم کو طرح طرح کے دُکھ دیتے تھے تمہارے لڑکوں کو مار ڈالتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ رکھتے تھے اور اس میں خدا تعالیٰ کی طرف سے تمہارا بڑا امتحان تھا اور وہ وقت یاد کرو جبکہ ہم نے تمہارے پہنچنے کے ساتھ ہی دریا کو پھاڑ دیا۔پھر ہم نے تم کو نجات دے دی اور فرعون کے لوگوں کو ہلاک کر دیا اور تم دیکھتے تھے۔اب سوچنا چاہیئے کہ ان واقعات میں سے کوئی واقعہ بھی ان یہودیوں کو پیش نہیں آیا تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں موجود تھے نہ وہ فرعون کے ہاتھ سے دُکھ دیئے گئے نہ اُن کے بیٹوں کو کسی نے قتل کیا نہ وہ کسی دریا سے پار کئے گئے۔پھر آگے فرماتا ہے وَاذْ قُلْتُم يَمُوسى لَن تُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً فَأَخَذَ تَكُمُ الضُّعِقَةُ وَانْتُمْ تَنْظُرُونَ - ثُمَّ بَعَثْنَكُمْ مِنْ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ - وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَاَنْزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَن والسلوى (البقرة : ۲۵۶ ۵۸) یعنی وہ وقت یاد کرو جب تم نے موسیٰ کو کہا کہ ہم تیرے کہے پر تو ایمان نہیں لائیں گے جب تک خدا کو چشم خود نہ دیکھ لیں تب تم پر صاعقہ پڑی اور پھر تم کو زندہ کیا گیا تا کہ تم شکر کرو اور ہم نے بادلوں کو تم پر سائبان کیا اور ہم نے تم پر من وسلویٰ اُتارا۔اب ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ تو ان یہودیوں سے جو قرآن میں مخاطب کئے گئے دو ہزار برس پہلے فوت ہو چکے تھے اور ان کا حضرت موسیٰ کے زمانہ میں نام ونشان بھی نہ تھا پھر وہ حضرت موسیٰ سے ایسا سوال کیوں کر کر سکتے تھے کہاں اُن پر بجلی گرمی کہاں انہوں نے من وسلویٰ کھایا۔کیا وہ پہلے حضرت موسیٰ کے زمانہ میں اور اور قالبوں میں موجود تھے اور پھر آنحضرت کے زمانہ میں بھی بطور تناسخ آموجود ہوئے اور اگر یہ نہیں تو بجز