تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 114 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 114

マ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة النُّور اس تاویل کے اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ مخاطبت کے وقت ضروری نہیں کہ وہی لوگ حقیقی طور پر واقعات منسوبہ کے مصداق ہوں جو مخاطب ہوں۔کلام الہی اور احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ ایک قاعدہ پھہر گیا ہے کہ بسا اوقات کوئی واقعہ ایک شخص یا ایک قوم کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اور دراصل وہ واقعہ کسی دوسری قوم یا دوسرے شخص سے تعلق رکھتا ہے اور اسی باب میں سے عیسی بن مریم کے آنے کی خبر ہے کیونکہ بعض احادیث میں آخری زمانہ میں آنے کا ایک واقعہ حضرت عیسی کی طرف منسوب کیا گیا حالانکہ وہ فوت ہو چکے تھے پس یہ واقعہ بھی حضرت مسیح کی طرف ایسا ہی منسوب ہے جیسا کہ واقعہ فرعون کے ہاتھ سے نجات پانے کا اور من و سلوی کھانے کا اور صاعقہ گرنے کا اور دریا سے پار ہونے کا اور قصہ کن نضيرَ عَلَى طَعَامٍ وَاحِدٍ (البقرة : ٦٣) کا اُن یہودیوں کی طرف منسوب کیا گیا جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں موجود تھے۔حالانکہ وہ واقعات اُن کی پہلی قوم کے تھے جو اُن سے صدہا برس پہلے مر چکے تھے۔پس اگر کسی کو آیات کے معنے کرنے میں معقولی شق کی طرف خیال نہ ہو اور ظاہر الفاظ پر اڑ جانا واجب سمجھے تو کم سے کم ان آیات سے یہ ثابت ہو گا کہ مسئلہ تناسخ حق ہے ورنہ کیوں کر ممکن تھا کہ خدا تعالیٰ ایک فاعل کے فعل کو کسی ایسے شخص کی طرف منسوب کرے جس کو اس فعل کے ارتکاب سے کچھ بھی تعلق نہیں حالانکہ وہ آپ ہی فرماتا ہے لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أخرى (بنی اسرائیل (۱۲) پھر اگر موسیٰ کی قوم نے موسیٰ کی نافرمانی کی تھی اور اُن پر بجلی گری تھی یا انہوں نے گوسالہ پرستی کی تھی اور ان پر عذاب نازل ہوا تھا تو اس دُوسری قوم کو ان واقعات سے کیا تعلق تھا جو دو ہزار برس بعد پیدا ہوئے۔یوں تو حضرت آدم سے تا ایں دم متقدمین متاخرین کے لئے بطور آباء واجداد ہیں لیکن کسی کا گنہ کسی پر عائد نہیں ہوسکتا۔پھر خدا تعالیٰ کا قرآن کریم میں یہ فرمانا کہ تم نے موسیٰ کی نافرمانی کی اور تم نے کہا کہ ہم خدا کو نہیں مانیں گے جب تک اس کو دیکھ نہ لیں اور اس گنہ کے سبب سے تم پر بجلی گری کیوں کر ان تمام الفاظ کے بنظر ظاہر کوئی اور معنے ہو سکتے ہیں بجز اس کے کہ کہا جائے کہ دراصل وہ تمام یہودی جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں موجود تھے حضرت موسیٰ کے وقت میں بھی موجود تھے اور انہیں پر من و سلوی نازل ہوا تھا اور انہیں پر بجلی پڑی تھی اور انہیں کی خاطر فرعون کو ہلاک کیا گیا تھا اور پھر وہی یہودی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بطور تناسخ پیدا ہو گئے اور اس طرح پر خطاب صحیح ٹھہر گیا مگر سوال یہ ہے کہ کیوں ایسے سیدھے سیدھے معنے نہیں کئے جاتے۔کیا یہ خدا تعالیٰ کی قدرت سے دُور ہیں اور کیوں ایسے معنے قبول کئے جاتے ہیں جو تاویلات بعیدہ کے حکم میں ہیں کیا خدا تعالیٰ قادر نہیں کہ جس طرح