تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 112 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 112

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۱۲ ج سورة النُّور بھی ہے جس میں اسی طرح بظاہر الفاظ وہ لوگ مخاطب ہیں جو حضرت موسیٰ پر ایمان لائے تھے اور اس وقت زندہ موجود تھے بلکہ ان آیات میں تو اس بات پر نہایت قوی قرائن موجود ہیں کہ در حقیقت وہی مخاطب کئے گئے ہیں اور وہ آیات یہ ہیں قَالَ سَنقَتِلُ ابْنَاءَهُمْ وَنَسْتَحْيِ نِسَاءَهُمْ وَ إِنَّا فَوْقَهُمْ فَهِرُونَ - قَالَ مُوسى لِقَوْمِهِ اسْتَعِينُوا بِاللهِ وَاصْبِرُوا إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ ، يُورِثُهَا مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ قالُوا أَوذِينَا مِنْ قَبْلِ أَنْ تَأْتِيَنَا وَ مِنْ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا قَالَ عَلى رَبِّكُمْ أَنْ يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ (الاعراف : ۱۳۰۳۱۲۸ ) الجز و نمبر ۹ سورۃ الاعراف۔یعنی فرعون نے کہا کہ ہم بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور اُن کی بیٹیوں کو زندہ رکھیں گے اور تحقیقا ہم ان پر غالب ہیں۔تب موسیٰ نے اپنی قوم کو کہا کہ اللہ سے مدد چاہو اور صبر کروز مین خدا کی ہے جس کو اپنے بندوں سے چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے اور انجام بخیر پرہیز گاروں کا ہی ہوتا ہے۔تب موسیٰ کی قوم نے اس کو جواب دیا کہ ہم تیرے پہلے بھی ستائے جاتے تھے اور تیرے آنے کے بعد بھی ستائے گئے تو موسیٰ نے اُن کے جواب میں کہا کہ قریب ہے کہ خدا تمہارے دشمن کو ہلاک کرے اور زمین پر تمہیں خلیفے مقرر کر دے اور پھر دیکھے کہ تم کس طور کے کام کرتے ہو۔اب ان آیات میں صریح اور صاف طور پر وہی لوگ مخاطب ہیں جو حضرت موسیٰ کی قوم میں سے اُن کے سامنے زندہ موجود تھے اور انہوں نے فرعون کے ظلموں کا شکوہ بھی کیا تھا اور کہا تھا کہ ہم تیرے پہلے بھی ستائے گئے اور تیرے آنے کے بعد بھی اور انہیں کو خطاب کر کے کہا تھا کہ تم ان تکلیفات پر صبر کر و خدا تمہاری طرف رحمت کے ساتھ متوجہ ہوگا اور تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے گا اور تم کو زمین پر خلیفے بنادے گالیکن تاریخ دانوں پر ظاہر ہے اور یہودیوں اور نصاری کی کتابوں کو دیکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ گو اس قوم کا دشمن یعنی فرعون اُن کے سامنے ہلاک ہوا مگر وہ خود تو زمین پر نہ ظاہری خلافت پر پہنچے نہ باطنی خلافت پر۔بلکہ اکثر ان کی نافرمانیوں سے ہلاک کئے گئے اور چالیس برس تک بیابان لق و دق میں آوارہ رہ کر جان بحق تسلیم ہوئے پھر بعد ان کی ہلاکت کے ان کی اولاد میں ایسا سلسلہ خلافت کا شروع ہوا کہ بہت سے بادشاہ اس قوم میں ہوئے اور داؤد اور سلیمان جیسے خلیفہ اللہ اسی قوم میں سے پیدا ہوئے یہاں تک کہ آخر یہ سلسلہ خلافت کا چودھویں صدی میں حضرت مسیح پر ختم ہوا پس اس سے ظاہر ہے کہ کسی قوم موجودہ کو مخاطب کرنے سے ہرگز یہ لازم نہیں آتا کہ وہ خطاب قوم موجودہ تک ہی محدودر ہے بلکہ قرآن کریم کا تو یہ بھی محاورہ پایا جاتا