تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 111 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 111

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام III سورة النُّور جلالی نام ہے اور احمد جمالی۔اور احمد اور عیسی اپنے جمالی معنوں کی رُو سے ایک ہی ہیں۔اسی کی طرف یہ اشارہ ب وَ مُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِى اسمه احمد - مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فقط احمد ہی نہیں بلکہ محمد بھی ہیں یعنی جامع جلال و جمال ہیں۔لیکن آخری زمانہ میں برطبق پیشگوئی مجر داحمد جو اپنے اندر حقیقت عیسویت رکھتا ہے بھیجا گیا۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۶۰ تا ۴۶۳) خدا وعدہ دے چکا ہے کہ اس دین میں رسول اللہ صلعم کے بعد خلیفے پیدا کرے گا اور قیامت تک اس کو قائم کرے گا۔یعنی جس طرح موسیٰ کے دین میں مدت ہائے دراز تک خلیفے اور بادشاہ بھیجتارہا ایسا ہی اس جگہ بھی کرے گا اور اس کو معدوم ہونے نہیں دے گا۔آب قرآن شریف موجود ہے حافظ بھی بیٹھے ہیں دیکھ لیجئے کہ کفار نے کس دعوے کے ساتھ اپنی را ئمیں ظاہر کیں کہ یہ دین ضرور معدوم ہو جائے گا اور ہم اس کو کالعدم کر دیں گے اور ان کے مقابل پر یہ پیشگوئی کی گئی جو قرآن شریف میں موجود ہے کہ ہر گز تباہ نہیں ہوگا۔یہ ایک بڑے درخت کی طرح ہو جائے گا اور پھیل جائے گا اور اس میں بادشاہ ہوں گے۔(جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۹۱،۲۹۰) خدا نے اُن لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے اور اچھے کام کئے یہ وعدہ کیا ہے کہ البتہ انہیں زمین۔میں اسی طرح خلیفہ کرے گا جیسا کہ اُن لوگوں کو کیا جو اُن سے پہلے گزر گئے اور اُن کے دین کو جو اُن کے لئے پسند کیا ہے ثابت کر دے گا اور اُن کے لئے خوف کے بعد امن کو بدل دے گا میری عبادت کریں گے میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔الجز و نمبر ۱۸ سورۃ نور۔اب غور سے دیکھو کہ اس آیت میں بھی مماثلت کی طرف صریح اشارہ ہے اور اگر اس مماثلت سے مماثلت تامہ مُراد نہیں تو کلام عبث ہوا جاتا ہے کیونکہ شریعت موسوی میں چودہ سو برس تک خلافت کا سلسلہ ممتد رہا نہ صرف تیس برس تک اور صد با خلیفے روحانی اور ظاہری طور پر ہوئے نہ صرف چار اور پھر ہمیشہ کے لئے خاتمہ۔اور اگر یہ کہا جائے کہ منکم کا لفظ دلالت کرتا ہے کہ وہ خلیفے صرف صحابہ میں سے ہوں کیونکہ منکم کے لفظ میں مخاطب صرف صحابہ ہیں تو یہ خیال ایک بدیہی غلطی ہے اور ایسی بات صرف اُس شخص کے منہ سے نکلے گی جس نے بھی قرآن کریم کو غور سے نہیں پڑھا اور نہ اُس کی اسالیب کلام کو پہچانا کیونکہ اگر یہی بات سچ ہے کہ مخاطبت کے وقت وہی لوگ مراد ہوتے ہیں جو موجودہ زمانہ میں بحیثیت ایمانداری زندہ موجود ہوں تو ایسا تجویز کرنے سے سارا قرآن زیروز بر ہو جائے گا۔مثلاً اسی آیت موصوفہ بالا کے مشابہ قرآن کریم میں ایک اور آیت