تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 108 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 108

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۸ سورة النُّور اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَ لَيُبَدِ لَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمَنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ فِي شَيْئًا ۖ وَمَنْ كَفَرَ بَعد ذلِكَ فَأُولَبِكَ هُمُ الفَسِقُونَ۔(۵۶) خدا نے تم میں سے بعض نیکو کارایمانداروں کے لئے یہ وعدہ ٹھہر رکھا ہے کہ وہ انہیں زمین پر اپنے رسول مقبول کے خلیفے کرے گا انہیں کی مانند جو پہلے کرتا رہا ہے اور ان کے دین کو کہ جو ان کے لئے اس نے پسند کر لیا ہے یعنی دین اسلام کو زمین پر جما دے گا اور مستحکم اور قائم کر دے گا اور بعد اس کے کہ ایماندار خوف کی حالت میں ہوں گے یعنی بعد اس وقت کے کہ جب باعث وفات حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ خوف دامنگیر ہوگا کہ شاید اب دین تباہ نہ ہو جائے۔تو اس خوف اور اندیشہ کی حالت میں خدائے تعالی خلافت حقہ کو قائم کر کے مسلمانوں کو اندیشہ ابتری دین سے بے غم اور امن کی حالت میں کر دے گا وہ خالصاً میری پرستش کریں گے اور مجھ سے کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔یہ تو ظاہری طور پر بشارت ہے مگر جیسا کہ آیات قرآنیہ میں عادت الہیہ جاری ہے اس کے نیچے ایک باطنی معنے بھی ہیں اور وہ یہ ہیں کہ باطنی طور پر ان آیات میں خلافت روحانی کی طرف بھی اشارہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایک خوف کی حالت میں کہ جب محبت الہیہ دلوں سے اٹھ جائے اور مذاہب فاسدہ ہر طرف پھیل جائیں اور لوگ رو بہ دنیا ہو جائیں اور دین کے گم ہونے کا اندیشہ ہو تو ہمیشہ ایسے وقتوں میں خدا روحانی خلیفوں کو پیدا کرتا رہے گا کہ جن کے ہاتھ پر روحانی طور پر نصرت اور فتح دین کی ظاہر ہو۔اور حق کی عزت اور باطل کی ذلت ہو۔تا ہمیشہ دین اپنی اصلی تازگی پر عود کر تار ہے اور ایماندار ضلالت کے پھیل جانے اور دین کے مفقود ہو جانے کے اندیشہ سے امن کی حالت میں آجائیں۔( براہینِ احمد یہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۶۰،۲۵۹ حاشیہ نمبر ۱۱) خدائے تعالیٰ نے اس اُمت کے مومنوں اور نیکو کاروں کے لئے وعدہ فرمایا ہے کہ انہیں زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسا کہ اس نے پہلوں کو بنایا تھا یعنی اُسی طرز اور طریق کے موافق اور نیز اسی مدت اور زمانہ کے مشابہ اور اُسی صورت جلالی اور جمالی کی مانند جو بنی اسرائیل میں سنت اللہ گزر چکی ہے اس اُمت میں بھی خلیفے بنائے جائیں گے اور اُن کا سلسلہ خلافت اس سلسلے سے کم نہیں ہو گا۔جو بنی اسرائیل کے خلفاء کے لئے مقرر کیا گیا تھا اور نہ ان کی طرز خلافت اس طرز سے مبائن و مخالف ہوگی جو بنی اسرائیل کے خلیفوں کے لئے مقرر