تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 109
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 1+9 سورة النُّور کی گئی تھی۔پھر آگے فرمایا ہے کہ ان خلیفوں کے ذریعے سے زمین پر دین جمادیا جائے گا اور خدا خوف کے دنوں کے بعد امن کے دن لائے گا۔خالصا اُسی کی بندگی کریں گے اور کوئی اس کا شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔لیکن اس زمانہ کے بعد پھر کفر پھیل جائے گا۔مماثلت تامہ کا اشارہ جو گمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ سے سمجھا جاتا ہے۔صاف دلالت کر رہا ہے کہ یہ مماثلت مدت ایام خلافت اور خلیفوں کی طرز اصلاح اور طرنہ ظہور سے متعلق ہے۔سو چونکہ یہ بات ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل میں خلیفتہ اللہ ہونے کا منصب حضرت موسیٰ سے شروع ہوا اور ایک مدت دراز تک نوبت به نوبت انبیاء بنی اسرائیل میں رہ کر آخر چودہ (سو) برس کے پورے ہونے تک حضرت عیسی ابن مریم پر یہ سلسلہ ختم ہوا حضرت عیسیٰ ابن مریم ایسے خلیفہ اللہ تھے کہ ظاہری عنان حکومت اُن کے ہاتھ میں نہیں آئی تھی اور سیاست ملکی اور اس دنیوی بادشاہی سے ان کو کچھ علاقہ نہیں تھا اور دنیا کے ہتھیاروں سے وہ کچھ کام نہیں لیتے تھے بلکہ اس ہتھیار سے کام لیتے تھے جو اُن کے انفاس طیبہ میں تھا۔یعنی اس موعہ بیان سے جو اُن کی زبان پر جاری کیا گیا تھا جس کے ساتھ بہت سی برکتیں تھیں اور جس کے ذریعہ سے وہ مرے ہوئے دلوں کو زندہ کرتے تھے اور بہرے کانوں کو کھولتے تھے اور مادر زاد اندھوں کو سچائی کی روشنی دکھا دیتے تھے اُن کا وہ دم از لی کا فر کو مارتا تھا اور اُس پر پوری حجت کرتا تھا لیکن مومن کو زندگی بخشتا تھا۔وہ بغیر باپ کے پیدا کئے گئے تھے اور ظاہری اسباب اُن کے پاس نہیں تھے اور ہر بات میں خدائے تعالیٰ اُن کا متولی تھا۔وہ اُس وقت آئے تھے کہ جبکہ یہودیوں نے نہ صرف دین کو بلکہ انسانیت کی خصلتیں بھی چھوڑ دی تھیں اور بے رحمی اور خود غرضی اور کینہ اور بغض اور ظلم اور حسد اور بے جا جوش نفس اتارہ کے اُن میں ترقی کر گئے تھے۔اور نہ صرف بنی نوع کے حقوق کو انہوں نے چھوڑ دیا تھا بلکہ غلبہ شقاوت کی وجہ سے حضرت محسن حقیقی سے عبودیت اور اطاعت اور بچے اخلاص کا رشتہ بھی توڑ بیٹھے تھے۔صرف بے مغز استخوان کی طرح توریت کے چند الفاظ اُن کے پاس تھے جو قہر الہی کی وجہ سے ان کی حقیقت تک وہ نہیں پہنچ سکتے تھے کیونکہ ایمانی فراست اور زیر کی بالکل اُن میں سے اُٹھ گئی تھی اور اُن کے نفوس مظلمہ پر جہل غالب آگیا تھا اور سفلی مکاریاں اور کراہت کے کام اُن سے سرزد ہوتے تھے اور جھوٹ اور ریا کاری اور غداری اُن میں انتہا تک پہنچ گئی تھی۔ایسے وقت میں اُن کی طرف مسیح ابن مریم بھیجا گیا تھا جو بنی اسرائیل کے مسیحوں اور خلیفوں میں سے آخری مسیح اور آخری خلیفتہ اللہ تھا جو بر خلاف سنت اکثر نبیوں کے بغیر تلوار اور نیزہ کے آیا تھا۔یا درکھنا چاہئے کہ شریعت موسوی میں خلیفتہ اللہ کو سیح کہتے تھے اور حضرت داؤد کے وقت اور یا اُن سے