تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 42 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 42

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲ سورة الحجر اے شیطان ! میرے بندے جو ہیں جنہوں نے میری مرضی کی راہوں پر قدم مارا ہے ان پر تیرا تسلط نہیں ہو سکتا۔سو جب تک انسان تمام کجیوں اور نالائق خیالات اور بے ہودہ طریقوں کو چھوڑ کر صرف آستانہ الہی پر گرا ہوا نہ ہو جائے تب تک وہ شیطان کی کسی عادت سے مناسبت رکھتا ہے اور شیطان مناسبت کی وجہ سے اس کی طرف رجوع کرتا ہے اور اس پر دوڑتا ہے۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۳۵۴) اور یہ سوال کہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں جبر کے طور پر بعضوں کو جہنمی ٹھہرا دیا ہے اور خواہ نخواہ شیطان کا تسلط ان پر لازمی طور پر رکھا گیا ہے یہ ایک شرمناک غلطی ہے اللہ جل شانہ قرآن شریف میں ، فرماتا ہے : إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطن کہ اے شیطان میرے بندوں پر تیرا کچھ بھی تسلط نہیں دیکھئے کس طرح پر اللہ تعالیٰ انسان کی آزادی ظاہر کرتا ہے۔منصف کے لئے اگر کچھ دل میں انصاف رکھتا ہو تو یہی آیت کافی ہے۔جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۳۲) پھر ڈپٹی صاحب فرماتے ہیں کہ اسلام کا یہ عقیدہ ہے کہ خیر اور شر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔افسوس کہ ڈپٹی صاحب کیسے صحیح معنے سے پھر گئے۔واضح ہو کہ اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ خدا تعالیٰ شرکو بحیثیت شر پیدا کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ صاف فرماتا ہے اِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطن یعنی اے شیطان، شر پہنچانے والے! میرے بندوں پر تیرا تسلط نہیں بلکہ اس فقرہ کے یہ معنے ہیں کہ ہر ایک چیز کے اسباب خواہ وہ چیز خیر میں داخل ہے یا شر میں خدا تعالیٰ نے پیدا کی ہیں۔مثلاً اگر شراب کے اجزاء جن سے شراب بنتی ہے موجود نہ ہوں تو پھر شرابی کہاں سے شراب بنا سکیں اور پی سکیں لیکن اگر اعتراض کرنا ہے تو پہلے اس آیت پر اعتراض کیجئے کہ۔" سلامتی کو بناتا اور بلا کو پیدا کرتا ہے۔“ یسعیا ۷٫۴۵۔جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۴۱) افسوس کہ بعض پادری صاحبان نے اپنی تصنیفات میں حضرت عیسی علیہ السلام کی نسبت اس واقعہ کی تفسیر میں کہ جب ان کو ایک پہاڑی پر شیطان لے گیا۔اس قدر جرات کی ہے کہ وہ لکھتے ہیں کہ یہ کوئی خارجی بات ی تھی جس کو دنیا دیکھتی اور جس کو یہودی بھی مشاہدہ کرتے بلکہ یہ تین مرتبہ شیطانی الہام حضرت مسیح کو ہوا تھا جس کو انہوں نے قبول نہ کیا مگر انجیل کی ایسی تفسیر سننے سے ہمارا تو بدن کا نپتا ہے کہ مسیح اور پھر شیطانی الہام۔ہاں اگر اس شیطانی گفتگو کو شیطانی الہام نہ مانیں اور یہ خیال کریں کہ در حقیقت شیطان نے مجسم ہو کر