تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 43 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 43

۴۳ سورة الحجر تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام حضرت عیسی علیہ السلام سے ملاقات کی تھی تو یہ اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ اگر شیطان نے جو پرانا سانپ ہے فی الحقیقت اپنے تئیں جسمانی صورت میں ظاہر کیا تھا اور وجود خارجی کے ساتھ آدمی بن کر یہودیوں کے ایسے ا متبرک معبد کے پاس آکر کھڑا ہو گیا تھا جس کے اردگرد صد ہا آدمی رہتے تھے تو ضرور تھا کہ اس کے دیکھنے کے لئے ہزاروں آدمی جمع ہو جاتے بلکہ چاہئے تھا کہ حضرت مسیح آواز مارکر یہودیوں کو شیطان دکھلا دیتے جس کے وجود کے کئی فرقے منکر تھے۔اور شیطان کا دکھلا دینا حضرت مسیح کا ایک نشان ٹھہرتا جس سے بہت آدمی ہدایت پاتے اور رومی سلطنت کے معزز عہدہ دار شیطان کو دیکھ کر اور پھر اس کو پرواز کرتے ہوئے مشاہدہ کر کے ضرور حضرت مسیح کے پیرو ہو جاتے مگر ایسا نہ ہوا۔اس سے یقین ہوتا ہے کہ یہ کوئی روحانی مکالمہ تھا جس کو دوسرے لفظوں میں شیطانی الہام کہہ سکتے ہیں مگر میرے خیال میں یہ بھی آتا ہے کہ یہودیوں کی کتابوں میں بہت سے شریر انسانوں کا نام بھی شیطان رکھا گیا ہے۔چنانچہ اسی محاورہ کے لحاظ سے مسیح نے بھی ایک اپنے بزرگ حواری کو جس کو انجیل میں اس واقعہ کی تحریر سے چند سطر ہی پہلے بہشت کی کنجیاں دی گئی تھیں شیطان کہا ہے۔پس یہ بات بھی قرین قیاس ہے کہ کوئی یہودی شیطان ٹھٹھے اور جنسی کے طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کے پاس آیا ہوگا اور آپ نے جیسا کہ پطرس کا نام شیطان رکھا اس کو بھی شیطان کہہ دیا ہوگا اور یہودیوں میں اس قسم کی شرارتیں بھی تھیں۔اور ایسے سوال کرنا یہودیوں کا خاصہ ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ سب قصہ ہی جھوٹ ہو جو عمداً یا دھوکہ کھانے سے لکھ دیا ہو۔کیونکہ یہ انجیلیں حضرت مسیح کی انجیلیں نہیں ہیں اور نہ ان کی تصدیق شدہ ہیں بلکہ حواریوں نے یا کسی اور نے اپنے خیال اور عقل کے موافق لکھا ہے۔اسی وجہ سے ان میں باہمی اختلاف بھی ہے۔لہذا کہہ سکتے ہیں کہ ان خیالات میں لکھنے والوں سے غلطی ہوگئی۔جیسا کہ یہ غلطی ہوئی کہ انجیل نویسوں میں سے بعض نے گمان کیا کہ گویا حضرت مسیح صلیب پر فوت ہو گئے ہیں۔ایسی غلطیاں حواریوں کی سرشت میں تھیں کیونکہ انجیل ہمیں خبر دیتی ہے کہ ان کی عقل باریک نہ تھی۔ان کے حالات ناقصہ کی خود حضرت مسیح گواہی دیتے ہیں کہ وہ فہم اور درایت اور عملی قوت میں بھی کمزور تھے۔بہر حال یہ سچ ہے کہ پاکوں کے دل میں شیطانی خیال مستحکم نہیں ہو سکتا۔اور اگر کوئی تیرتا ہواسرسری وسوسہ ان کے دل کے نزدیک آ بھی جائے تو جلد تر وہ شیطانی خیال دور اور دفع کیا جاتا ہے اور ان کے پاک دامن پر کوئی داغ نہیں لگتا قرآن شریف میں اس قسم کے وسوسہ کو جو ایک کم رنگ اور نا پختہ خیال سے مشابہ ہوتا ہے طائف کے نام سے موسوم کیا ہے اور لغت عرب میں اس کا نام ظائف اور خوف اور طیف اور طیف بھی ہے۔اور۔