تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 41 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 41

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱ سورة الحجر الْمَوْتُ فِي جَمِيعِ الْأَقْوَامِ وَالرِّيَارِ تب اس وقت اللہ تعالیٰ نے دیکھا کہ بعث ( یعنی اٹھائے وَالْجِهَاتِ، فَهُنَاكَ رَأَى اللهُ أَن وَقت جانے کا وقت ) آچکا ہے اور موت کا وقت اپنی انتہا کو پہنچ الْبَعْدِ قَد أَتى، وَوَقتَ الْمَوْتِ بَلَغَ إِلَى گیا ہے تب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مبعوث فرمایا جس الْمُتَعَنِى فَأَرْسَلَ رَسُولَهُ كَمَا جَرَتْ طرح کہ پہلی صدیوں میں اس کی سنت جاری تھی تاکہ وہ سُنّته في قُرُونٍ أَولى، لِيُحْيِي الْمَولى مردوں کو زندہ کرے اور یہ رب الکائنات کا وعدہ پورا ہوکر وَكَانَ وَعْدًا مَّفْعُولًا مِّنْ رَّبِّ الْوَرى رہنے والا تھا۔( ترجمہ از مرتب ) خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۳۲۰ تا ۳۲۳) الَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ ) محققوں نے بخاری کی اس حدیث کو۔۔۔۔۔ما مِن مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا وَالشَّيْطن يَمَسه حِينَ يُولد إِلَّا مَرْيَمَ وَابْتَها - قرآن کریم کی ان آیات سے مخالف پا کر کہ الا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ وَإِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطن ( الحجر : ۴۳) - وَسَلَمُ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِد (مریم :۱۲)۔اس حدیث کی یہ تاویل کر دی کہ ابن مریم اور مریم سے تمام ایسے اشخاص مراد ہیں جو ان دونوں کی صفت پر ہوں جیسا کہ شارح بخاری نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے۔قَدْ طَعَنَ الزَّمَخْشَرِى في مَعْلى هَذَا الْحَدِيثِ وَ تَوَقَفَ فِي صِحَتِهِ وَقَالَ إِنْ مَعَ فَمَعْنَاهُ كُلُّ مَنْ كَانَ فِي صِفَيهِمَا لِقَوْلِهِ تَعَالَى إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِین یعنی علامہ زمخشری نے بخاری کی اس حدیث میں طعن کیا ہے اور اس کی صحت میں اس کو شک ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث معارض قرآن ہے اور فقط اس صورت میں صحیح متصور ہوسکتی ہے کہ اس کے یہ معنے کئے جائیں کہ مریم اور ابن مریم سے مراد تمام ایسے لوگ ہیں جو ان کی صفت پر ہوں۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۰۹، ۶۱۰) اِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَنَّ إِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغَوِينَ۔آيت إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطن۔۔۔۔۔صاف دلالت کر رہی ہے کہ مس شیطان سے محفوظ ہونا ابن مریم سے مخصوص نہیں۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۹۳)