تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 25 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 25

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵ سورة الحجر مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کو پورا کیا ہے اور مجھے بھیجا ہے تا میں ہمیشہ کے لئے اس کا سر کچل دوں۔الحکم جلدے نمبر ۲۳ مورخه ۲۴ /جون ۱۹۰۳ء صفحه ۳) خدا تعالیٰ کے سچے نبی اور افضل الرسل پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی گئیں۔۔۔۔خدا تعالیٰ کی غیرت کب روار کھ سکتی ہے کہ یہ گالیاں اسی طر دی جائیں اور اسلام کی دستگیری اور نصرت نہ ہو حالانکہ اس نے آپ وعدہ فرمایا تھا إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَ اِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ۔یہ بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ زمانہ کی یہ حالت ہو اور اللہ تعالیٰ باوجود اس وعدہ کے پھر خاموش رہے۔بے باک اور شوخ عیسائی قرآن شریف کی یہاں تک بے ادبی کرتے ہیں کہ اس کے ساتھ استنجے کرتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قسم قسم کے افترا باندھتے ہیں اور گالیاں دیتے ہیں اور وہ لوگ ان میں زیادہ ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے گھروں میں جنم لیا اور مسلمانوں کے گھروں میں پرورش پائی اور پھر مرتد ہو کر اسلام کی پاک تعلیم پر ٹھٹھا کرنا اپنا شیوہ بنالیا ہے یہ حالت بیرونی طور پر اسلام کی ہو رہی ہے اور ہر طرف سے اس پر تیر اندازی ہو رہی ہے تو کیا یہ وقت خدا تعالی کی غیرت کو جو وہ اپنے پاک رسول کے لئے (صلی اللہ علیہ وسلم ) رکھتا ہے جوش میں لانے والا نہ تھا۔اس کی غیرت نے جوش مارا اور مجھے مامور کیا اس وعدہ کے موافق جو اس نے اِنا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ میں کیا تھا۔الحکم جلد ۸ نمبر ۱۱ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۳) ہم نے اس قرآن مجید کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔پھر دیکھ لو کہ اس نے کیسی حفاظت فرمائی ایک لفظ اور نقطہ تک پس و پیش نہ ہوا اور کوئی ایسا نہ کر سکا کہ اس میں تحریف تبدیل کرتا۔الحکم جلد ۸ نمبر امورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۴ صفحه ۴) ہم ہی نے اس قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی محافظت کریں گے یعنی جب اس کے معانی میں غلطیاں وارد ہوں گی تو اصلاح کے لئے ہمارے مامور آیا کریں گے۔الحکم جلد ۸ نمبر ۳۹،۳۸ مورخہ ۱۰ تا۱۷ نومبر ۱۹۰۴ء صفحہ ۷) بیشک ہم نے ہی اس ذکر ( قرآن شریف ) کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔قرآن شریف کی حفاظت کا جو وعدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وہ توریت یا کسی اور کتاب کے لئے نہیں اسی لئے ان کتابوں میں انسانی چالاکیوں نے اپنا کام کیا۔قرآن شریف کی حفاظت کا یہ بڑا از بردست ذریعہ ہے کہ اس کی تاثیرات کا ہمیشہ تازہ بتازہ ثبوت ملتا رہتا ہے اور یہود نے چونکہ توریت کو بالکل چھوڑ دیا ہے اور ان میں کوئی اثر اور قوت