تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 26 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 26

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۶ سورة الحجر باقی نہیں رہی جو ان کی موت پر دلالت کرتی ہے۔(احکم جلد ۹ نمبر ۴۰ مورخه ۷ ارنومبر ۱۹۰۵ صفحه ۸۷) اسلام کی حالت جو اس وقت ہے وہ پوشیدہ نہیں بالا تفاق مان لیا گیا ہے کہ ہر قسم کی کمزوریوں اور تنزل کا نشانہ مسلمان ہورہے ہیں ہر پہلو سے وہ گر رہے ہیں۔ان کی زبان ساتھ ہے تو دل نہیں ہے اور اسلام یتیم ہو گیا ہے۔ایسی حالت میں خدا تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے کہ میں اس کی حمایت اور سر پرستی کروں اور اپنے وعدہ کے موافق بھیجا ہے کیونکہ اس نے فرمایا تھا إِنَّا نَحْنُ نَزَلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ۔اگر اس وقت حمایت اور نصرت اور حفاظت نہ کی جاتی تو وہ اور کون سا وقت آئے گا۔اب اس چودھویں صدی میں وہی حالت ہو رہی ہے جو بدر کے موقع پر ہو گئی تھی۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۶ مورخه ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۶ء صفحه ۵) یہ امر قرآن شریف سے بھی ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی حفاظت کرتا رہا ہے اور کرے گا جیسا کہ فرمایا ہے اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ یعنی بے شک ہم نے ہی اس ذکر کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔انا له لحفظون کا لفظ صاف طور پر دلالت کرتا ہے کہ صدی کے سر پر ایسے آدمی آتے رہیں گے جو گم شدہ متاع کو لائیں اور لوگوں کو یاد دلائیں۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۶ مورخه ۱۷ فروری ۱۹۰۶ صفحه ۳) خدا کا یہی ارادہ تھا۔اس نے اپنے وعدہ کے موافق وقت پر اپنے دین کی خبر گیری اور دستگیری فرمائی ہے إنا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَ اِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ۔اسلام کو اس نے دنیا میں قائم کیا قرآن کی تعلیم پھیلائی اور اس کی حفاظت کا بھی وہی خود ذمہ دار ہے۔الحام جلد ۱۲ نمبر ۴۱ مورخہ ۱۴؍ جولائی ۱۹۰۸ صفحه ۱۳) یہ حدیث (إنَّ اللهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَيْدُ لَهَا دِينَهَا - ناقل) إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ کی شرح ہے۔صدی ایک عام آدمی کی عمر ہوتی ہے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں فرمایا کہ سو سال بعد کوئی نہ رہے گا۔جیسے صدی جسم کو مارتی ہے اسی طرح ایک روحانی موت بھی واقع ہوتی ہے اس لئے صدی کے بعد ایک نئی ذریت پیدا ہو جاتی ہے جیسے اناج کے کھیت۔اب دیکھتے ہیں کہ ہرے بھرے ہیں ایک وقت میں بالکل خشک ہوں گے پھر نئے سر سے پیدا ہو جائیں گے اس طرح پر ایک سلسلہ جاری رہتا ہے۔پہلے اکا بر سوسال کے اندر فوت ہو جاتے ہیں اس لئے خدا تعالیٰ ہر صدی پر نیا انتظام کر دیتا ہے جیسا رزق کا سامان کرتا ہے۔پس قرآن کی حمایت کے ساتھ یہ حدیث تواتر کا حکم رکھتی ہے۔