تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 24 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 24

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۴ سورة الحجر الحکم جلد ۶ نمبر ۲۸ مورخه ۱۰ /اگست ۱۹۰۲ء صفحه ۶) ہیں دکھا دیا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر صدی کے سر پر ایک مسجد کو بھیجتا ہے جو دین کے اس حصہ کو تازہ کرتا ہے جس پر کوئی آفت آئی ہوئی ہوتی ہے۔یہ سلسلہ مجددوں کے بھیجنے کا اللہ تعالی کے اس وعدہ کے موافق ہے جو اس نے إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ میں فرمایا ہے۔پس اس وعدہ کے موافق اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشگوئی کے موافق جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی سے وحی یا کر فرمائی تھی یہ ضروری ہوا کہ اس صدی کے سر پر جس میں سے انیس برس گزر گئے کوئی مجدد اصلاح دین اور تجدید ملت کے لئے مبعوث ہوتا۔اس سے پہلے کہ کوئی خدا تعالیٰ کا مامور اس کے الہام ووحی سے مطلع ہو کر اپنے آپ کو ظاہر کرتا۔مستعد اور سعید فطرتوں کے لئے ضروری تھا کہ وہ صدی کا سر آ جانے پر نہایت اضطراب اور بے قراری کے ساتھ اس مرد آسمانی کی تلاش کرتے اور اس آواز کے سننے کے لئے ہمہ تن گوش ہو جاتے جو انہیں یہ مژدہ سناتی کہ میں خدا تعالی کی طرف سے وعدہ کے موافق آیا ہوں۔الحکم جلد نمبر ۱ مورخہ ۱۰ جنوری ۱۹۰۳ صفحه ۳) اس وقت میرے مامور ہونے پر بہت سی شہادتیں ہیں ؛ اول اندرونی شہادت ، دوم بیرونی شہادت، سوم صدی کے سر پر آنے والے مجدد کی نسبت حدیث صحیح، چہارم إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ کا الحکم جلدے نمبر ۲ مورخہ ۱۷ جنوری ۱۹۰۳ء صفحه ۲) وعدہ حفاظت۔یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کے لئے غیور ہے۔اس نے سچ فرمایا ہے إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لحفظون۔اس نے اس وعدہ کے موافق اپنے ذکر کی محافظت فرمائی اور مجھے مبعوث کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدہ کے موافق کہ ہر صدی کے سر پر مجدد آتا ہے اس نے مجھے صدی چہار دہم کا مجدد کیا جس کا نام کا سر الصلیب بھی رکھا ہے۔اگر ہم اس دعوی میں غلطی پر ہیں تو پھر سارا کاروبار نبوت کا ہی باطل ہوگا اور سب وعدے جھوٹے ٹھہریں گے اور پھر سب سے بڑھ کر عجیب بات یہ ہوگی کہ خدا تعالیٰ بھی جھوٹوں کی حمایت کرنے والا ثابت ہوگا ( معاذ اللہ ) کیونکہ ہم اس سے تائیدیں پاتے ہیں اور اس کی نصرتیں ہمارے ساتھ الحکم جلد نمبر ۴ مورخه ۳۱ /جنوری ۱۹۰۳ صفحه ۳) ہیں۔نم اسلام پر ایسا خطرناک صدمہ پہنچا ہے کہ ایک ہزار سال قبل تک اس کا نمونہ اور نظیر موجود نہیں ہے۔یہ شیطان کا آخری حملہ ہے اور وہ اس وقت ساری طاقت اور زور کے ساتھ اسلام کو نابود کرنا چاہتا ہے