تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 323 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 323

۳۲۳ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الانبياء سونے کو مٹی بنا دے تو اس سے امان اٹھ جائے گا اور علوم و فنون ضائع ہو جائیں گے۔تو اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ خیال سراسر فاسد ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ خدا تعالٰی اپنی مخفی حکمتوں کے تصرف سے عناصر وغیرہ کو صد با طور کے استحالات میں ڈالتا رہتا ہے ایک زمین کو ہی دیکھو کہ وہ انواع اقسام کے استحالات سے کیا کچھ بنتی رہتی ہے اس سے سم الفار نکل آتا ہے اور اسی سے فاذ زہر اور اسی سے سونا اور اسی سے چاندی اور اسی سے طرح طرح کے جواہرات اور ایسا ہی بخارات کا صعود ہو کر کیا کیا چیزیں ہیں جو جو آسمان میں پیدا ہو جاتی ہیں انہیں بخارات میں سے برف گرتی ہے اور انہیں سے اولے بنتے ہیں اور انہیں میں سے برق اور انہیں میں سے صاعقہ اور یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ کبھی جو آسمان سے راکھ بھی گرتی ہے تو کیا ان حالات سے علم باطل ہو جاتے ہیں یا امان اٹھ جاتا ہے اور اگر یہ کہو کہ ان چیزوں میں تو خدا تعالیٰ نے پہلے ہی سے ان کی فطرت میں ان تمام استحالات کا مادہ رکھا ہے تو ہمارا یہ جواب ہوگا کہ ہم نے کب اور کس وقت کہا ہے کہ اشیا متنازعہ فیہا میں ایسا مادہ متشار کہ نہیں رکھا گیا بلکہ صحیح اور سچا مذ ہب تو یہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو اپنی ذات میں واحد ہے تمام اشیاء کو شئے واحد کی طرح پیدا کیا ہے تا وہ موجد واحد کی وحدانیت پر دلالت کریں۔سوخدا تعالیٰ نے اسی وحدانیت کے لحاظ سے اور نیز اپنی قدرت غیر محدودہ کے تقاضا سے استحالات کا مادہ اُن میں رکھا ہے اور بجز اُن روحوں کے جو اپنی سعادت اور شقاوت میں خُلِدِينَ فِيهَا ابدا ( الجن : ۲۴) کے مصداق ٹھہرائے گئے ہیں اور وعدہ الہی نے ہمیشہ کے لئے ایک غیر متبدل خلقت ان کے لئے مقرر کر دی ہے باقی کوئی چیز مخلوقات میں سے استحالات سے بچی ہوئی معلوم نہیں ہوتی بلکہ اگر غور کر کے دیکھو تو ہر وقت ہر یک جسم میں استحالہ اپنا کام کر رہا ہے یہاں تک کہ علم طبعی کی تحقیقاتوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ تین برس تک انسان کا جسم بدل جاتا ہے اور پہلا جسم ذرات ہو کر اڑ جاتا ہے۔مثلاً اگر پانی ہے یا آگ ہے تو وہ بھی استحالہ سے خالی نہیں اور دو طور کے استحالے ان پر حکومت کر رہے ہیں ایک یہ کہ بعض اجزا نکل جاتے ہیں اور بعض اجزا جدیدہ آملتے ہیں۔دوسرے یہ کہ جو اجز انکل جاتے ہیں وہ اپنی استعداد کے موافق دوسرا جنم لے لیتے ہیں۔غرض اس فانی دنیا کو استحالات کے چرخ پر چڑھائے رکھنا خدا تعالیٰ کی ایک سنت ہے اور ایک بار یک نگاہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب چیزیں بوجہ وحدت مبدء فیض اپنی اصل ماہیت میں ایک ہی ہیں گو ان چیزوں کا کامل کیمیا گر انسان نہیں بن سکتا اور کیوں کر بنے حکیم مطلق نے اپنے اسرار حکمیہ غیر متناہیہ پر کسی دوسرے کو محیط نہیں کیا۔اور اگر یہ کہو کہ اجرام علوی میں استحالات کہاں ہیں تو میں کہتا ہوں کہ بیشک ان میں بھی