تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 322
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام علیہ ۳۲۲ سورة الانبياء اور نہیں سمجھتے کہ جو امور ایک قانون مشخص مقرر کے نیچے آجائیں ان کا مفہوم محدود ہونے کو لازم پڑا ہوا ہے اور جو حکمتیں اور قدرتیں ذات غیر محدود میں پائی جاتی ہیں ان کا غیر محدود ہونا واجب ہے۔کیا کوئی دانا کہ سکتا ہے کہ اس ذات قادر مطلق کو اس اس طور پر بنانا یاد ہے اور اس سے زیادہ نہیں۔کیا اس کی غیر متناہی قدرتیں انسانی قیاس کے پیمانہ سے وزن کی جاسکتی ہیں یا اس کی قادرانہ اور غیر متناہی حکمتیں تصرف فی العالم سے کسی وقت عاجز ہو سکتی ہیں یا بلا شبہ اس کا پر زور ہاتھ ذرہ ذرہ پر قابض ہے اور کسی مخلوق کا قیام اور بقا اپنی مستحکم پیدائش کے موجب سے نہیں بلکہ اسی کے سہارے اور آسرے سے ہے اور اس کی ربانی طاقتوں کے آگے بے شمار میدان قدرتوں کے پڑے ہیں نہ اندرونی طور پر کسی جگہ انتہا ہے اور نہ بیرونی طور پر کوئی کنارہ ہے۔جس طرح یہ ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ ایک مشتعل آگ کی تیزی فرو کرنے کے لئے خارج میں کوئی ایسے اسباب پیدا کرے جن سے اس آگ کی تیزی جاتی رہے اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ اس آگ کی خاصیت احراق دور کرنے کے لئے اُسی کے وجود میں کوئی ایسے اسباب پیدا کر دے جن سے خاصیت احراق دور ہو جائے کیونکہ اس کی غیر متناہی حکمتوں اور قدرتوں کے آگے کوئی بات انہونی نہیں اور جب ہم اس کی حکمتوں اور قدرتوں کو غیر متناہی مان چکے تو ہم پر یہ بھی فرض ہے کہ ہم اس بات کو بھی مان لیں کہ اس کی تمام حکمتوں اور قدرتوں پر ہم کو علم حاصل ہو نا ممتنع اور محال ہے سو ہم اس کی نا پیدا کنار حکمتوں اور قدرتوں کے لئے کوئی قانون نہیں بنا سکتے اور جس چیز کی حدود ہمیں معلوم ہی نہیں اس کی پیمائش کرنے سے ہم عاجز ہیں۔ہم بنی آدم کی دنیا کا نہایت ہی تنگ اور چھوٹا سا دائرہ ہیں اور پھر اس دائرہ کا بھی پورا پورا ہمیں علم حاصل نہیں۔پس اس صورت میں ہماری نہایت ہی کم ظرفی اور سفاہت ہے کہ ہم اس اقل قلیل پیمانہ سے خدائے تعالیٰ کی غیر محدودحکمتوں اور قدرتوں کو نا اپنے لگیں۔(برائین احمد یه چهار حصص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۴۸۱ تا ۴۸۸ حاشیہ نمبر ۱۱) اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اس بات کے ماننے سے کہ خدا تعالی کی غیر متناہی حکمت استحالات غیر متناہیہ پر قادر ہے۔حقائق اشیاء سے امان اٹھ جاتا ہے۔مثلاً اگر خدا تعالیٰ اس بات پر قادر سمجھا جائے کہ پانی کی صورت نوعیہ کو سلب کر کے ہوا کی صورت نوعیہ اس جگہ رکھ دے یا ہوا کی صورت نوعیہ کو سلب کر کے آگ کی صورت نوعیہ اس کی قائم مقام کر دے یا آگ کی صورت نوعیہ کو سلب کر کے ان مخفی اسباب سے جو اس کے علم میں ہیں پانی کی صورت نوعیہ میں لے آوے یا مٹی کو کسی زمین کی تہ میں تصرفات لطیفہ سے سونا بنادے یا